ایران کو ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے، دشمن کو کسی بھی غلطی کا فیصلہ کن جواب دیا جائیگا: کمانڈر پاسداران انقلاب
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد کرامی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی غلط قدم کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت ایک جامع اور ہائبرڈ جنگ کی زد میں ہے جو صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور سیاسی محاذوں پر بھی جاری ہے۔ محمد کرامی کے مطابق ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور اگر کوئی دشمنانہ اقدام ہوا تو اس کا فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی پر امریکا کی سخت وارننگ کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی، تاہم اب حالات میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔