نیویارک:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے مندوب نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ پابندیوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے نعروں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقل مندوب غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران کی داخلی صورتحال پر اجلاس بلانا شرمناک اور سیاسی منافقت کا عکاس ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں درحقیقت اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں اور برسوں سے ایران پر عائد پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین پر داعش کے طرز پر حملے کیے گئے، جن سے نمٹنے کے لیے ایرانی سیکیورٹی گارڈز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی۔

مزید پڑھیں

ایران کی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے، سلامتی کونسل اجلاس میں گرما گرم بحث

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ کس کے کہنے پر روکا گیا، امریکی اخبار نے بتا دیا

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکومت مظاہرین کو بغاوت پر اکسا رہی ہے، جو ایران کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔

خطاب میں ایرانی مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، اور ایران کے خلاف کسی فوجی آپریشن کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نہ صرف ایران بلکہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور عالمی نظام کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔

ایرانی مندوب غلام حسین درزی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی حکومت پرامن مظاہرین کے حقوق کا احترام کرتی ہے، تاہم کسی بھی بیرونی جارحیت یا سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ ایران کے کہ ایران ایران کی کسی بھی

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت