ICE کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ نے فوج تعینات کرنے کی دھمکی دیدی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنٹس کے خلاف جاری شدید مظاہروں کے بعد فوج تعینات کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر منی سوٹا کے حکمران سیاستدان قانون پر عمل نہیں کراتے تو وہ انسریکشن ایکٹ نافذ کر کے فوجی دستے تعینات کر دیں گے۔
یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب 8 روز قبل منیا پولس میں ایک ICE ایجنٹ نے ایک امریکی خاتون شہری، رینی گڈ، کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد مقامی آبادی اور وفاقی سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ احتجاج دیگر شہروں تک بھی پھیل چکا ہے۔
ایک اور فائرنگ، وینزویلا کے شہری کے زخمی ہونے کا واقعہصدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب منیاپولس میں ایک امیگریشن افسر نے ایک وینزویلا کے شہری جولیو سیزر سوسا سیلس کو ٹانگ میں گولیاں مار کر زخمی کر دیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق یہ شخص گاڑی روکنے کی کوشش پر فرار ہو رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سوسا سیلس گاڑی حادثے کے بعد پیدل بھاگا، گرفتاری کے دوران ہاتھا پائی ہوئی اور مبینہ طور پر اس نے افسر پر بیلچہ یا ڈنڈے سے حملہ کیا، جس کے بعد افسر نے اپنی جان کے دفاع میں فائرنگ کی۔ تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
صدر ٹرمپ کا سخت بیانصدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’اگر منی سوٹا کے کرپٹ سیاستدان قانون پر عمل نہیں کراتے اور پیشہ ور فسادیوں کو ICE کے محب وطن اہلکاروں پر حملوں سے نہیں روکتے تو میں انسریکشن ایکٹ نافذ کر دوں گا۔‘
یہ بھی پڑھیے: امریکا بھر میں ’نو کنگز‘ ریلیوں کی تیاریاں مکمل: ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں افراد کے سڑکوں پر نکلنے کی توقع
صدر ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں منی سوٹا کی ڈیموکریٹ قیادت پر سخت تنقید کی ہے اور ریاست میں مقیم صومالی نژاد افراد کے بارے میں توہین آمیز زبان بھی استعمال کی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
ہزاروں مسلح وفاقی اہلکار تعیناتٹرمپ انتظامیہ اب تک تقریباً 3 ہزار وفاقی اہلکار منیاپولس کے علاقے میں تعینات کر چکی ہے، جو فوجی طرز کی وردی، چہروں پر نقاب پہنے اور جدید اسلحہ کے ساتھ گشت کر رہے ہیں۔ ان اہلکاروں کو دن رات شدید احتجاج کا سامنا ہے، جہاں مظاہرین سیٹیاں، ڈھول اور نعرے بازی کر رہے ہیں۔
بدھ کی رات مظاہرین اور وفاقی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے دوران آنسو گیس اور فلیش بینگ گرینیڈز کا استعمال بھی کیا گیا۔
شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزاماتایک واقعے میں امریکی شہری عالیہ رحمان کو نقاب پوش امیگریشن اہلکاروں نے گاڑی سے گھسیٹ کر گرفتار کیا۔ عالیہ رحمان نے رائٹرز کو بتایا کہ مجھے جانوروں کی طرح باندھا گیا، حالانکہ میں نے بتایا تھا کہ میں معذور ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور وہ بے ہوش ہو گئیں، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ عالیہ رحمان نے افسران کے احکامات ماننے سے انکار کیا اور رکاوٹ ڈالنے پر گرفتار کیا گیا۔
سیاسی محاذ آرائی اور حامیوں میں اختلافمنی سوٹا کی صورتحال پر ٹرمپ انتظامیہ اور ریاستی قیادت ایک دوسرے کو تشدد کا ذمہ دار قرار دے رہی ہیں۔
ادھر ایک تازہ رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق ٹرمپ کے حامی بھی اس معاملے پر منقسم ہیں:
یہ بھی پڑھیے صدر ٹرمپ کیخلاف امریکا میں 2600 سے زائد مقامات پر ریلیاں اور احتجاج، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
59 فیصد ریپبلکن ووٹرز کا کہنا ہے کہ امیگریشن گرفتاریوں کو ترجیح دی جائے، چاہے لوگ زخمی ہوں۔
39 فیصد کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ اولین ہونا چاہیے، چاہے گرفتاریوں کی تعداد کم ہو۔
انسریکشن ایکٹ کیا ہے؟انسریکشن ایکٹ 1807 کا ایک قانون ہے، جو امریکی صدر کو بغاوت یا شدید بدامنی کی صورت میں فوج یا نیشنل گارڈ تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ قانون امریکی تاریخ میں اب تک 30 بار استعمال ہو چکا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق صدر خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کی شرائط پوری ہو چکی ہیں یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ریاست منی سوٹا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منیا پولس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منیا پولس انسریکشن ایکٹ عالیہ رحمان تعینات کر منی سوٹا کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔