Jasarat News:
2026-07-24@00:57:40 GMT

انجام کی طرف بڑھتا امریکا اور سید مودودی کی پیش گوئی

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وہ مردِ حق، مردِ درویش جس کی نگاہ صرف حال پر نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کے اُفق تک پھیلی ہوئی تھی۔ جسے نہ اقتدار کی چکا چوند نے خیرہ کیا، نہ زمانے کے شور نے گمراہ کیا۔ خدا کی عطا کردہ فراست، دل کی گہرائیوں میں اُترتی ہوئی بصیرت اور تاریخ کے مزاج سے آشنائی نے اسے وہ کچھ کہنے کی جرأت و توفیق دی جو اس کے عہد کے دانشور سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ اْس وقت جب دنیا دو واضح خانوں میں منقسم تھی، جب ماسکو کمیونزم کا قبلہ اور واشنگٹن سرمایہ دارانہ نظام کا ناقابل ِ تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا، اْس مردِ درویش نے مستقبل کے پردے چاک کرتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو اس دور میں دیوانگی سمجھی جا سکتی تھی مگر آج حکمت کی بلند ترین مثال بن کر سامنے کھڑی ہے۔ اس نے طاقت کے ایوانوں، مالیاتی مراکز اور نظریاتی قلعوں کے اندر چھپی کمزوریوں کو اس وقت دیکھ لیا تھا جب سب انہیں ابدی سمجھ رہے تھے۔ اس کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ دراصل تاریخ کے اوراق پر ثبت ہونے والا ایک سنہری نشان تھا، ایک ایسا نشان جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید چمکتا اور روشن ہوتا چلا گیا۔ قریباً ستر برس پہلے کہی گئی اس پیش گوئی میں نہ صرف نظاموں کے زوال کا اشارہ تھا بلکہ اس غرورِ اقتدار کی بھی نشاندہی تھی جو آخرکار اپنے ہی بوجھ تلے دب جایا کرتا ہے۔ مرشد مودودیؒ کا قول تھا کہ ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی اور سرمایہ دارانہ نظام واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا‘‘۔

آج عالمی سیاست کے بدلتے نقشے، طاقت کے لرزتے ستون اور خوف میں لپٹی ہوئی سپر پاور کی حرکات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا اسی لمحے کے قریب آن کھڑا ہواہے، جہاں اقتدار کا غرور اضطراب میں بدلتا ہے اور طاقت خود اپنے سائے سے خائف دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ کے شوق شرانگیزی کا نیا ہدف: ڈنمارک گرین لینڈ ہے جو بظاہر تو برف سے ڈھکا ایک خاموش جزیرہ ہے، مگر آج یہ عالمی سیاست کے اعصاب پر ہاتھ رکھے کھڑا ہے۔ وجہ صرف اس کی جغرافیائی اہمیت نہیں بلکہ وہ جارحانہ لہجہ ہے جس کے ساتھ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ اس کا ذکر کر رہے ہیں۔ وینزویلا میں خلاف غیر قانونی مداخلت، ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور سخت بیانات کے بعد اب ڈنمارک جیسے ناٹو اتحادی کو بھی طاقت کے اسلوب میں مخاطب کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ ٹرمپ امریکا کو اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے لے کر جارہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گرین لینڈ امریکی دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ اْس کے نقطہ ٔ نظر سے یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ نہیں کہ گرین لینڈ اسٹرٹیجک ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی نظام میں اختلافات اب دھمکیوں سے حل کیے جائیں گے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اتحاد، معاہدے اور بین الاقوامی قانون سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ناٹو اتحادیوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے اور یورپ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کے راہنما اس معاملے کو محض امریکا اور ڈنمارک کے درمیان اختلاف نہیں سمجھ رہے۔ ان کے نزدیک یہ ناٹو کے اجتماعی مزاج اور باہمی اعتماد کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر امریکا اپنے اتحادیوں سے بھی طاقت کی زبان میں بات کرے گا تو پھر اتحاد کی بنیاد کمزور ہو گی۔ یورپی دارالحکومتوں میں ٹرمپ کی دھمکیوں کو غیر ذمے دارانہ اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کیا اور گرین لینڈ کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ برطانیہ کا موقف ہے کہ ناٹو اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو دھمکیوں کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے۔ اسٹارمر کا یہ رابطہ محض رسمی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ اب ٹرمپ کے جارحانہ انداز کو خاموشی سے قبول کرنے کے موڈ میں نہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر ٹرمپ کے اس جنگی اور جارحانہ مزاج کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ اسلحہ ساز کمپنیاں ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی جنگ یا تنازع کا شور بلند ہوتا ہے، دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ امریکی عسکری و صنعتی گٹھ جوڑ کے مفادات اس حقیقت سے جڑے ہوئے ہیں کہ امن کے مقابلے میں بحران زیادہ منافع بخش ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیاں محض سیاسی فیصلے نہیں بلکہ معاشی مفادات کا تسلسل بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسرا اہم عنصر صہیونی لابی کا دباؤ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف سخت رویہ اور طاقت کے استعمال کی سوچ اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ اگرچہ گرین لینڈ کا مسئلہ براہِ راست مشرق وسطیٰ سے متعلق نہیں، مگر طاقت کے ذریعے عالمی نقشہ بدلنے کی ذہنیت اسی سوچ کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ تیسرا عامل امریکی داخلی سیاست ہے جہاں کمزوری کو سیاسی خودکشی سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کمزور نہیں بلکہ فیصلہ کن اور طاقتور رہنما ہیں، چاہے اس کے لیے عالمی عدم استحکام کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔

ان جارحانہ اقدامات کے ممکنہ منفی اثرات خود امریکا کے لیے بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ناٹو اتحادی بدظن ہو رہے ہیں، یورپی یونین امریکا سے فاصلہ بڑھا رہی ہے اور عالمی سطح پر امریکا کی اخلاقی برتری کمزور پڑ رہی ہے۔ اگر امریکا ہر مسئلے کا حل طاقت میں تلاش کرے گا تو اتحادی آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کریں گے۔ طاقت اکیلے نہیں چلتی، اسے اتحاد اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی عوام کے اندر بھی اس رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں نے امریکی معاشرے کو تھکا دیا ہے۔ نئی مہم جوئی کا خیال عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ میڈیا، دانشوروں اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ کیا امریکا ہر بحران کا حل جنگ میں ڈھونڈے گا یا کبھی سفارت کاری کو بھی موقع دے گا۔ یہ خدشات اب محض نظری نہیں رہے بلکہ سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔

اگر اس سارے منظرنامے کو سید مودودیؒ کے قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے۔ واقعی وہ وقت قریب آ رہا ہے جب سرمایہ دارانہ نظام اپنے ہی مراکز میں عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا۔ شاید ٹرمپ کی قیادت میں امریکا ایسی راہ پر گامزن ہے جہاں طاقت کا غرور اسے عالمی تنہائی کی طرف لے جائے گا۔ یہ سوال صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، کیونکہ ایک غیر متوازن سپر پاور کا اثر عالمی امن پر براہ راست پڑرہا ہے۔ گرین لینڈ کا معاملہ بظاہر ایک جزیرے کی کہانی ہے، مگر درحقیقت یہ عالمی نظام کے مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر طاقت کی زبان غالب آ گئی تو مکالمہ ختم ہو جائے گا، اور جب مکالمہ ختم ہوتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ زوال کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو رُک کر سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اسی راستے پر جانا چاہتے ہیں۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ نہیں بلکہ طاقت کے ہوتا ہے ہے جہاں ٹرمپ کی رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار