Jasarat News:
2026-06-02@22:14:56 GMT

انجام کی طرف بڑھتا امریکا اور سید مودودی کی پیش گوئی

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وہ مردِ حق، مردِ درویش جس کی نگاہ صرف حال پر نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کے اُفق تک پھیلی ہوئی تھی۔ جسے نہ اقتدار کی چکا چوند نے خیرہ کیا، نہ زمانے کے شور نے گمراہ کیا۔ خدا کی عطا کردہ فراست، دل کی گہرائیوں میں اُترتی ہوئی بصیرت اور تاریخ کے مزاج سے آشنائی نے اسے وہ کچھ کہنے کی جرأت و توفیق دی جو اس کے عہد کے دانشور سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ اْس وقت جب دنیا دو واضح خانوں میں منقسم تھی، جب ماسکو کمیونزم کا قبلہ اور واشنگٹن سرمایہ دارانہ نظام کا ناقابل ِ تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا، اْس مردِ درویش نے مستقبل کے پردے چاک کرتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو اس دور میں دیوانگی سمجھی جا سکتی تھی مگر آج حکمت کی بلند ترین مثال بن کر سامنے کھڑی ہے۔ اس نے طاقت کے ایوانوں، مالیاتی مراکز اور نظریاتی قلعوں کے اندر چھپی کمزوریوں کو اس وقت دیکھ لیا تھا جب سب انہیں ابدی سمجھ رہے تھے۔ اس کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ دراصل تاریخ کے اوراق پر ثبت ہونے والا ایک سنہری نشان تھا، ایک ایسا نشان جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید چمکتا اور روشن ہوتا چلا گیا۔ قریباً ستر برس پہلے کہی گئی اس پیش گوئی میں نہ صرف نظاموں کے زوال کا اشارہ تھا بلکہ اس غرورِ اقتدار کی بھی نشاندہی تھی جو آخرکار اپنے ہی بوجھ تلے دب جایا کرتا ہے۔ مرشد مودودیؒ کا قول تھا کہ ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی اور سرمایہ دارانہ نظام واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا‘‘۔

آج عالمی سیاست کے بدلتے نقشے، طاقت کے لرزتے ستون اور خوف میں لپٹی ہوئی سپر پاور کی حرکات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا اسی لمحے کے قریب آن کھڑا ہواہے، جہاں اقتدار کا غرور اضطراب میں بدلتا ہے اور طاقت خود اپنے سائے سے خائف دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ کے شوق شرانگیزی کا نیا ہدف: ڈنمارک گرین لینڈ ہے جو بظاہر تو برف سے ڈھکا ایک خاموش جزیرہ ہے، مگر آج یہ عالمی سیاست کے اعصاب پر ہاتھ رکھے کھڑا ہے۔ وجہ صرف اس کی جغرافیائی اہمیت نہیں بلکہ وہ جارحانہ لہجہ ہے جس کے ساتھ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ اس کا ذکر کر رہے ہیں۔ وینزویلا میں خلاف غیر قانونی مداخلت، ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور سخت بیانات کے بعد اب ڈنمارک جیسے ناٹو اتحادی کو بھی طاقت کے اسلوب میں مخاطب کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ ٹرمپ امریکا کو اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے لے کر جارہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گرین لینڈ امریکی دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ اْس کے نقطہ ٔ نظر سے یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ نہیں کہ گرین لینڈ اسٹرٹیجک ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی نظام میں اختلافات اب دھمکیوں سے حل کیے جائیں گے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اتحاد، معاہدے اور بین الاقوامی قانون سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ناٹو اتحادیوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے اور یورپ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کے راہنما اس معاملے کو محض امریکا اور ڈنمارک کے درمیان اختلاف نہیں سمجھ رہے۔ ان کے نزدیک یہ ناٹو کے اجتماعی مزاج اور باہمی اعتماد کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر امریکا اپنے اتحادیوں سے بھی طاقت کی زبان میں بات کرے گا تو پھر اتحاد کی بنیاد کمزور ہو گی۔ یورپی دارالحکومتوں میں ٹرمپ کی دھمکیوں کو غیر ذمے دارانہ اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کیا اور گرین لینڈ کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ برطانیہ کا موقف ہے کہ ناٹو اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو دھمکیوں کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے۔ اسٹارمر کا یہ رابطہ محض رسمی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ اب ٹرمپ کے جارحانہ انداز کو خاموشی سے قبول کرنے کے موڈ میں نہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر ٹرمپ کے اس جنگی اور جارحانہ مزاج کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ اسلحہ ساز کمپنیاں ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی جنگ یا تنازع کا شور بلند ہوتا ہے، دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ امریکی عسکری و صنعتی گٹھ جوڑ کے مفادات اس حقیقت سے جڑے ہوئے ہیں کہ امن کے مقابلے میں بحران زیادہ منافع بخش ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیاں محض سیاسی فیصلے نہیں بلکہ معاشی مفادات کا تسلسل بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسرا اہم عنصر صہیونی لابی کا دباؤ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف سخت رویہ اور طاقت کے استعمال کی سوچ اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ اگرچہ گرین لینڈ کا مسئلہ براہِ راست مشرق وسطیٰ سے متعلق نہیں، مگر طاقت کے ذریعے عالمی نقشہ بدلنے کی ذہنیت اسی سوچ کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ تیسرا عامل امریکی داخلی سیاست ہے جہاں کمزوری کو سیاسی خودکشی سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کمزور نہیں بلکہ فیصلہ کن اور طاقتور رہنما ہیں، چاہے اس کے لیے عالمی عدم استحکام کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔

ان جارحانہ اقدامات کے ممکنہ منفی اثرات خود امریکا کے لیے بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ناٹو اتحادی بدظن ہو رہے ہیں، یورپی یونین امریکا سے فاصلہ بڑھا رہی ہے اور عالمی سطح پر امریکا کی اخلاقی برتری کمزور پڑ رہی ہے۔ اگر امریکا ہر مسئلے کا حل طاقت میں تلاش کرے گا تو اتحادی آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کریں گے۔ طاقت اکیلے نہیں چلتی، اسے اتحاد اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی عوام کے اندر بھی اس رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں نے امریکی معاشرے کو تھکا دیا ہے۔ نئی مہم جوئی کا خیال عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ میڈیا، دانشوروں اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ کیا امریکا ہر بحران کا حل جنگ میں ڈھونڈے گا یا کبھی سفارت کاری کو بھی موقع دے گا۔ یہ خدشات اب محض نظری نہیں رہے بلکہ سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔

اگر اس سارے منظرنامے کو سید مودودیؒ کے قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے۔ واقعی وہ وقت قریب آ رہا ہے جب سرمایہ دارانہ نظام اپنے ہی مراکز میں عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا۔ شاید ٹرمپ کی قیادت میں امریکا ایسی راہ پر گامزن ہے جہاں طاقت کا غرور اسے عالمی تنہائی کی طرف لے جائے گا۔ یہ سوال صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، کیونکہ ایک غیر متوازن سپر پاور کا اثر عالمی امن پر براہ راست پڑرہا ہے۔ گرین لینڈ کا معاملہ بظاہر ایک جزیرے کی کہانی ہے، مگر درحقیقت یہ عالمی نظام کے مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر طاقت کی زبان غالب آ گئی تو مکالمہ ختم ہو جائے گا، اور جب مکالمہ ختم ہوتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ زوال کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو رُک کر سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اسی راستے پر جانا چاہتے ہیں۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ نہیں بلکہ طاقت کے ہوتا ہے ہے جہاں ٹرمپ کی رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار