امریکا نے وینزویلا کا تیل بیچنا شروع کردیا۔ ٹرمپ کو مزید کارروائی کا اختیار بھی مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کے تیل کی 500 ملین ڈالر کی پہلی باضابطہ فروخت مکمل کر لی ہے اور تیل کی مزید فروخت آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم تیل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جو وینزویلا تیل کے انفرااسٹرکچر، بنیادی ڈھانچے کی بحالی سمیت سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار اور مائل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انہیں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں امریکی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف مزید کارروائی کا اختیار دے دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا اقدام کا نگریس سے مشروط کرنے کا بل 50 کے مقابلے میں51 ووٹ سے مسترد کر دیا گیا، 3 ریپبلکن ارکان سینیٹ نے تمام ڈیموکریٹس ارکان سے مل کر ووٹ دیا تھا۔ امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ کن ووٹ ڈالا۔ یاد رہے کہ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ امریکا کی وینزویلا میں کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور واشنگٹن اپنے ہی بنائے ہوئے عالمی اصولوں کو پامال کر رہا ہے، امریکا کی تجارتی پابندیوں اور غیر منصفانہ ڈیوٹیوں کا سلسلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کی عالمی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماسکو نے نوٹ کیا ہے کہ واشنگٹن یوکرین کو نیٹو میں گھسیٹنے سے متعلق کوششوں کو روکنا چاہتا ہے، تاہم یورپی حلقوں کی تجویز کردہ عارضی جنگ بندی یا وقفے کا مقصد صرف کیف حکومت کو وقت دینا ہے ناکہ مسئلے کے اصل حل کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وینزویلا کی حکومت قومی خود مختاری اور علاقائی وقار کے ساتھ امریکی یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کر رہی ہے اور ملک کی اکثریت عالمی سطح پر اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، روس پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت کاراکاس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھا کہ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز