امریکا نے وینزویلا کا تیل بیچنا شروع کردیا۔ ٹرمپ کو مزید کارروائی کا اختیار بھی مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-01-21
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کے تیل کی 500 ملین ڈالر کی پہلی باضابطہ فروخت مکمل کر لی ہے اور تیل کی مزید فروخت آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم تیل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جو وینزویلا تیل کے انفرااسٹرکچر، بنیادی ڈھانچے کی بحالی سمیت سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار اور مائل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انہیں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں امریکی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف مزید کارروائی کا اختیار دے دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا اقدام کا نگریس سے مشروط کرنے کا بل 50 کے مقابلے میں51 ووٹ سے مسترد کر دیا گیا، 3 ریپبلکن ارکان سینیٹ نے تمام ڈیموکریٹس ارکان سے مل کر ووٹ دیا تھا۔ امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ کن ووٹ ڈالا۔ یاد رہے کہ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ امریکا کی وینزویلا میں کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور واشنگٹن اپنے ہی بنائے ہوئے عالمی اصولوں کو پامال کر رہا ہے، امریکا کی تجارتی پابندیوں اور غیر منصفانہ ڈیوٹیوں کا سلسلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کی عالمی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماسکو نے نوٹ کیا ہے کہ واشنگٹن یوکرین کو نیٹو میں گھسیٹنے سے متعلق کوششوں کو روکنا چاہتا ہے، تاہم یورپی حلقوں کی تجویز کردہ عارضی جنگ بندی یا وقفے کا مقصد صرف کیف حکومت کو وقت دینا ہے ناکہ مسئلے کے اصل حل کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وینزویلا کی حکومت قومی خود مختاری اور علاقائی وقار کے ساتھ امریکی یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کر رہی ہے اور ملک کی اکثریت عالمی سطح پر اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، روس پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت کاراکاس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔