حکومت پاکستان کی مؤثر کاوشوں کی بدولت اہم معاشی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
حکومت اور ایس آئی ایف سی کی جامع پالیسیوں سے پاکستان کے معاشی استحکام کی کوششیں رنگ لانے لگیں، تقریباً پانچ سال بعد مارکیٹ یِیلڈز سنگل ڈیجٹس تک آنے سے پالیسی ریٹ سے نیچے ٹریڈ کا آغاز ہوگیا۔
حکومت کی محتاط اور منظم قرض گیری حکمتِ عملی کے باعث حکومتی قرضوں کی لاگت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
مارکیٹ یِیلڈز میں مسلسل کمی سے نجی شعبے کیلئے قرض فراہمی کی گنجائش بڑھی اور مالیاتی دباؤ میں نمایاں نرمی آئی۔
وزارتِ خزانہ کی اپنی بہترین شرائط پر مضبوط قرض گیری سے فنڈنگ لاگت کم اور مارکیٹ استحکام میں اضافہ ہوا، 2021 کے بعد پہلی بار مارکیٹ یِیلڈز پالیسی ریٹ سے نیچے آئیں، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
یِیلڈ کَرو کے تمام حصوں میں کمی، ٹی بل کٹ آف ریٹس میں 29 سے 34 بیس پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی) کی منظور شدہ مدتوں میں کٹ آف ریٹس 59 سے 70 بیس پوائنٹس کم ہو گئے۔ مارکیٹ پر غیر ضروری دباؤ سے اجتناب جاری رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ نظم و ضبط کے ساتھ لاگت اور مدتوں کو بہتر بنا رہی ہے۔
پی آئی بی نیلامی میں 450 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں حکومت نے 488 ارب روپے حاصل کیے۔ پی آئی بی نیلامی میں 1,458 ارب روپے کی بھاری بولیاں موصول ہوئیں جو مارکیٹ کے اعتماد کا مظہر ہے۔ یِیلڈز میں نرمی رواں سال حکومتی قرضوں کی سروسنگ لاگت کو مزید منظم اور مؤثر بنانے میں مدد دے گی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے فعال قرض مینجمنٹ کے تحت پاکستان کے رواں سال بھی قرض ادائیگی پر بچت کی پوزیشن میں ہونے کی خوشخبری سنا دی۔ یہ حکمتِ عملی لیکویڈیٹی محفوظ رکھ کر ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کو تقویت دے رہی ہے۔
معیشت میں اہم پیشرفت نجی شعبہ کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ی یلڈز
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔