وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی عشرت فاطمہ سے ملاقات، پی ٹی وی واپسی پر آمادگی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
آج مجھے آپا عشرت فاطمہ کے گھر حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر میں نے ان سے پاکستان ٹیلی ویژن میں نئی نسل کے نیوز کاسٹرز کے تلفظ اور ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنے کی گزارش کی، جس پر انہوں نے فراخ دلی سے آمادگی کا اظہار فرمایا۔ میں تہہ دل سے آپا کا مشکور ہوں۔ میں نے ان… pic.twitter.com/daF5a3Pgvk
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) January 15, 2026پاکستان کی سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ کو پاکستان ٹیلی ویژن واپس آنے پر آمادہ کر لیا۔ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی درخواست قبول کرتے ہوئے پی ٹی وی میں مینٹور کی حیثیت سے خدمات انجام دینے پر رضامندی ظاہر کی۔وفاقی وزیر عشرت فاطمہ کے ریڈیو پاکستان چھوڑ دینے کی اطلاع ملنے پر محترمہ عشرت فاطمہ کے گھر پہنچے۔ عطاء اللہ تارڑ نے عشرت فاطمہ کے ساتھ ان کے گھر پر ملاقات میں ان کی 45 سالہ شاندارخدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نیوز کاسٹنگ اور براڈ کاسٹنگ کے شعبے میں ایک نمایاں شناخت رکھتی ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کو جانتا ہے۔ آپ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ، غیر جانبدار اور ذمہ دار انداز میں خدمات انجام دیں۔وزیر اطلاعات نے محترمہ عشرت فاطمہ سے درخواست کی کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن میں مینٹور کی حیثیت سے واپس آئیں تاکہ نئے آنے والے نیوز کاسٹرز کو تربیت دے سکیں، اردو زبان کے فروغ میں کردار ادا کریں اور مشکل حالات، دباؤ یا قدرتی آفات کے دوران نیوز پڑھنے کے طریقے سکھا سکیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی واپسی سے ادارے کو تقویت ملے گی اور نئے آنے والوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عشرت فاطمہ کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہوں نے اپنی پوری زندگی پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق گزاری۔محترمہ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی درخواست قبول کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کام سے محبت ہے اور وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک کام کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ، ’جو کام ہم نے ٹھوکروں سے سیکھا ہے اگر کوئی آسان سے سیکھ لے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔‘عشرت فاطمہ نے کہا کہ باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور ان کی دل شکنی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ آگے بڑھنے کے لیے سہارا اور اعتماد بہت ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی وی کے لیے جو کچھ بھی کر سکیں گی، ضرور کریں گی۔واضح رہے کہ عشرت فاطمہ نے حال ہی میں ریڈیو پاکستان سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام بھی شیئر کیا تھا۔ جاری کردہ ویڈیو پیغام میں انہوں نے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی وجوہات سے آگاہ کیا تھا، جس پر صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی بھرپور حمایت کی گئی تھی۔اس موقع پر وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عشرت فاطمہ کے کہ عشرت فاطمہ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے اور ان
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔