سہیل آفریدی پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں انکو کوئی راستے سے ہٹا نہیں سکے گا، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں انکو کوئی راستے سے ہٹا نہیں سکے گا۔
پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سہیل آفریدی کو چند ماہ پہلے نہیں جانتے تھے، تفتیش کا عمل مکمل تھا پھر کیسے عدالت نے فارنزک لیب تک بات پہنچائی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ غیر قانونی ہے، پنجاب فارنزک لیب اور اس تفتیش کے عمل کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کا ماحول نظر نہیں آرہا، جس کو اصولوں پر بات کرنی ہے وہ ہم سے بات کریں، انتخابات کو شفاف بنانا ہے، عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور آزاد عدلیہ پر بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ظلم اور بربریت سے معیشت آگے نہیں جائے گی۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ بات کرنی ہے تو علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو اختیار دیا گیا ہے، ہم کسی آسائش کے لیے اور چور دروازے کے لیے بات نہیں کریں گے۔
سلمان اکرم راجا کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اب مقدمہ عوام کے سامنے رکھنا ہوگا، پہلے بھی حکومت کے پاس بیٹھے تھے، بسکٹ چائے پی اور کچھ نہیں ہوا، ملاقات کے لیے بھی وہ کہتے ہیں کہ ہم پوچھ کر بتائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا سہیل آفریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن