وزیراعلیٰ کو ہی صوبے کی صورتحال کا علم نہیں: گورنر خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت ایک واضح مؤقف اپنانا ہوگا، کیونکہ صوبے کے وزیراعلیٰ کو خود یہ معلوم نہیں کہ زمینی صورتحال کیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت آپس میں فٹبال میچ کھیل رہی ہے، ایک دوسرے کو پاسز دیے جا رہے ہیں مگر کوئی واضح سمت نظر نہیں آتی۔
گورنر کے پی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پہلی بریفنگ ہی سکیورٹی صورتحال پر ہوتی ہے، جبکہ اس سے قبل علی امین وزیراعلیٰ تھے تو وہ مذاکرات کی بات کرتے تھے، اب کہا جا رہا ہے کہ افغانستان ملوث ہے۔ ایک طرف دہشتگردی کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب اس کی تردید کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی تضاد ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت ایک متفقہ لائن اختیار کرنا ہوگی، کیونکہ موجودہ وزیراعلیٰ کو بھی واضح طور پر معلوم نہیں کہ صوبے میں اصل صورتحال کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔