اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ ملکی سیاست کیلئے مشکلات کا سبب بنتا ہے، اپوزیشن لیڈر کی تقرری ایک اچھی پیش رفت ہوگی، صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے، سندھ حکومت کی کارکردگی سے کوئی شکایت نہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن آج ہو جائے گا، بلاول بھٹو زرداری کو سندھ کا مقدمہ ایوان صدر میں پیش نہیں کرنا چاہئے تھا، اگر 8 فروری کے بعد 8 مئی کے احتجاج کی کال نہ آئی تو بانی تحریک انصاف سے ملاقات والا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تمام تر سیاسی سرگرمیاں بانی پی ٹی آئی کی مرہون منت ہے، بانی پی ٹی آئی جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں تھے، یہ اپوزیشن میں ہوکر بھی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مسائل کو ٹیبل پر بیٹھ کر حل کرنے کے حامی نہیں، بانی پی ٹی آئی اپنی اس پالیسی پر2011سے کاربند ہیں، ان کی پارٹی اورریاست کو مشکلات درپیش آتی رہیں، پی ٹی آئی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ ملکی سیاست کیلئے مشکلات کا سبب بنتا ہے، پی ٹی آئی اراکین نے اسٹینڈنگ کمیٹی سے استعفے دیئے ہوئے ہیں، یہ اسمبلی اجلاس میں بھی صرف احتجاج کرنے آتے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی تقرری ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وسائل کی تقسیم پرمختلف جگہوں پرگفتگو ہوتی رہی اورآگے بھی ہوتی رہے گی، وفاقی اورصوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم پر بات ہوتی رہے گی، ملک پر قرضوں کی واپسی کا عمل بہت متاثرہورہا ہے، دفاع کے اخراجات میں اضافہ بھی سکیورٹی کیلئے ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے، جب تک سارے صوبے متفق نہیں ہوتے گفتگو ہوتی رہنی چاہیے تاکہ نئے آئیڈیازسامنے آتے رہیں، ایسی پریشانی کی بات نہیں، بلاول بھٹو زرداری نے شاید مختلف باتوں سے متاثر ہوکر ایسی بات کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں سندھ حکومت کی کارکردگی سے کوئی شکایت نہیں، وزیراعظم نے ہمیشہ سندھ حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا، سندھ حکومت نے بھی وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کی، جمہوری دور میں سب ہی کے پاس تنقید کا اختیار ہوتا ہے، سندھ حکومت جمہوری گورنمنٹ ہے وہ وفاق پر تنقید کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سندھ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہیں، وفاق پر بھی تنقید کی جاتی ہے، پنجاب حکومت پر کونسی کوئی تنقید نہیں ہوتی، بلوچستان اورخیبرپختونخوا گورنمنٹ پر بھی تنقید ہوتی ہے، کسی پر مثبت تنقید بھی ہوتی ہے، وفاقی حکومت یا مسلم لیگ ن سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید نہیں کررہی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: رانا ثناء اللہ نے کہا وسائل کی تقسیم بانی پی ٹی ا ئی سندھ حکومت نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان