خواتین تنظیموں کا گوگل اور ایپل سے ایکس اور گروک ایپ اسٹورز سے ہٹانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خواتین کے مختلف گروپس پر مشتمل ایک اتحاد، ٹیکنالوجی واچ ڈاگز اور سماجی کارکنوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور ایپل سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور اس کے چیٹ بوٹ گروک کو اپنے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا جائے۔
بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک کھلے خط میں ان گروہوں نے الزام عائد کیا کہ ایلون مسک کے زیرِ انتظام یہ پلیٹ فارمز غیر قانونی مواد، خصوصاً خواتین اور بچوں سے متعلق جنسی، توہین آمیز اور پُرتشدد تصاویر بنانے اور پھیلانے میں ملوث ہیں، جو دونوں کمپنیوں کی پالیسیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس اتحاد میں فیمنسٹ گروپ الٹرا وائلٹ، نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن، لبرل گروپ موو آن اور پیرنٹس ٹوگیدر شامل ہیں، جن کا مقصد ایلون مسک پر دباؤ بڑھانا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مؤثر کارروائی پر مجبور کرنا ہے۔
الٹرا وائلٹ کی کمپین ڈائریکٹر جینا شرمن کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد ایپل اور گوگل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی پالیسیوں کے مطابق فوری اقدامات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔