مظاہرین پر تشدد کا الزام: 5 ایرانی اعلیٰ حکام پر امریکی پابندیاں عائد
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ تشدد اور کریک ڈاؤن کے الزامات پر ایران کے 5 اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کر دیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کا ہدف وہ حکام ہیں جو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں براہ راست ملوث پائے گئے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جن حکام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکورٹی کے سیکریٹری علی لاریجانی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر کمانڈرز شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حکام ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں براہ راست شامل رہے ہیں۔
پابندیوں کی فہرست میں محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی جیسے سیکورٹی کمانڈرز کے نام بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان افراد کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی لین دین پر پابندی عائد ہو گی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے مبینہ شیڈو بینکنگ نیٹ ورک سے وابستہ 18 افراد اور اداروں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ان میں متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور سنگاپور میں قائم متعدد فرنٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ایرانی فنڈز کو خفیہ طور پر منتقل کرنے میں استعمال ہو رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام میں چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ بیان کے مطابق ان سرگرمیوں کے ذریعے ایرانی قیادت اپنی دولت بیرون ملک منتقل کر رہی تھی۔
امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ویڈیو پیغام میں ایرانی قیادت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ان تمام مالی راستوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، جن کے ذریعے ایرانی عوام سے لوٹی گئی دولت کو بیرون ملک منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے مطالبے کی حمایت جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں