فرعونی دعوؤں سے گریزکیجیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وینزویلا پرکامیاب حملہ اور اس کے نتیجے میں اس ملک پر بہ زور قوت قبضہ کرنے کے عمل سے شہ پا کر اب امریکی صدر آپے سے باہر ہوگئے ہیں۔ اپنے تازہ ترین بیان میں صدر محترم نے کہا کہ ’’ میں کسی عالمی قانون کا پابند نہیں ہوں اور دنیا بھر میں کہیں بھی حملے کا حکم دے سکتا ہوں، کیونکہ میں امریکی افواج کا کمانڈر انچیف ہوں اور امریکی افواج میرے صرف حکم کی پابند ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ کسی اورکی اخلاقیات کے پابند نہیں ہیں اورکوئی بھی فیصلہ کرتے وقت وہ اپنی ذاتی اخلاقیات اور اپنے ذہن و دماغ کے پابند ہوتے ہیں۔صدر ٹرمپ کا یہ آمرانہ بیان اس وقت آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے یہ قرارداد منظورکی کہ وینز ویلا پر مزید فوجی کارروائیوں کے لیے امریکی کانگریس سے منظوری لینا ہوگی،گویا خود ان کے ملک کے ہی مقتدر حلقے ان کے آمرانہ رویے کے خلاف بول پڑے ہیں۔
اس قرارداد کے حق میں خود ان کی ری پبلکن پارٹی کے پانچ سینیٹرز نے بھی حصہ لیا اور ووٹ دیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے ان کے رویے پر اپنی جھلاہٹ اس طرح ظاہرکی ہے کہ ان کو دھمکی دی کہ وہ آیندہ سینیٹ کے ممبر منتخب نہیں ہو سکیں گے، لیکن اسی کے ساتھ انھوں نے وینز ویلا پر متوقع دوسرے حملے کی لہرکو روکنے کا اعلان کرکے اپنی بڑ بتیوں کے غیر موثر ہونے کا خود ہی اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب وینز ویلا کی جانب سے بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے اقدام کو بھی سراہا ہے اور اسے وینزویلا کی حالت میں بہتری کی علامت قرار دیا ہے۔
انھوں نے یہ توقع بھی ظاہرکی ہے کہ وینزویلا میں تیل اور گیس کی فراہمی کی بہتری کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔ امریکی صدر نے ایک ہی سانس میں یہ بھی کہا امریکا اپنی سرمایہ کاری کو منافع اور سیاسی بالادستی کو برقرار رکھنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ امریکا وینز ویلا پر اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا غیر معینہ مدت تک وینزویلا کو اپنے قبضے میں رکھنے اور اس کے تیل کی دولت سے استفادہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کا برملا اعلان کرنے میں انھیں کسی قسم کی دشواری نہیں۔
صدر صاحب نے اپنے آمرانہ اقدامات کے لیے جو پہلی شرط بیان کی وہ یہ تھی میں کسی بھی ملک پر فوج کشی کے لیے اپنی فوج کو حکم دے سکتا ہوں کیونکہ میں امریکی فوج کا کمانڈر انچیف ہوں۔ یہ دلیل انتہائی احمقانہ ہے، ہر ملک کی فوج کا ایک کمانڈر انچیف ہوتا ہے اور جمہوری ممالک میں چاہے وہ صدارتی نظام ہو یا پارلیمانی نظام، سربراہ مملکت ہی افواج کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے مگر محض اس عہدے پر فائز ہونا کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے ملک پر چڑھ دوڑے۔ امریکا اس وقت دنیا کی اعلیٰ ترین فوجی طاقت ہے اور وہ کسی بھی ملک پر حملہ آور ہونے کی سکت رکھتا ہے تو امریکی صدر کا یہ دعویٰ سمجھ میں آتا ہے مگر پھر بھی امریکا کو کھلی چھٹی نہیں مل جاتی کہ وہ جس ملک پر اور جب چاہے حملہ آور ہو جائے۔
دوسرے ہم اپنے تحفظ کا بھی بندوبست رکھتے ہیں۔امریکا کی بدنصیبی یہ ہے کہ ان کی مملکت کا سربراہ وہ زبان بول رہا ہے جو تاریخ کے فراعنہ ہامان اور شداد بولتے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ جس انداز گفتگو پر اتر آئے ہیں وہ متکبرانہ انداز قدرت کو پسند نہیں۔ وینزویلا تو بے چارہ کیا سر اٹھائے امریکا کے آگے اس کی ہم عہد دیگر عالمی طاقتیں بھی آواز بلند کرتے ہوئے سوچتی ضرور ہیں۔
مگر آپ کی طاقت کا یہ انداز کہ امریکا طویل عرصے تک وینزویلا کو اپنے زیر تسلط رکھ سکتا اور اس کے تیل اور معدنیات سے فائدہ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے۔ یقینا رکھتا ہے لیکن ہر عہد میں ہر فرعون کے لیے موسیٰ ضرور ہوتا ہے۔اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ امریکی معاشرہ بہرحال ایک جمہوری معاشرہ ہے اور اس کے صدر کو اس کے مملکتی مزاج کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ مگر صدر ٹرمپ جس طرح اپنے آپ کو بزرجمہر ثابت کرکے اور عقل کل کے منصب پر خود کو فائز کرکے ساری دنیا کو اپنا ماتحت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
وہ خود امریکی معاشرے کے لیے شرم ناک بات ہے کسی جمہوری مملکت کا کسی دوسرے ملک پر بہ زور قوت قبضہ کر لینا اور اس قبضے کو علی الاعلان غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا اعلان کرنا کچھ صدر ٹرمپ کی ذات تک محدود نہیں بلکہ ان کی مملکت کے مجموعی کردار پر بھی اس سے حرف آتا ہے۔ امریکی قوم کو من حیثیت القوم اس رویے پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔وینزویلا جیسے چھوٹے سے ملک پر قبضہ کر لینا، باز کا چڑیا پر چڑھ دوڑنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
اب ہو یہ رہا ہے کہ طاقت کے نشے میں سرشار امریکا بہادر دوسری چڑیا یعنی گرین لینڈ پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں اور علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ امریکا گرین لینڈ کے معاملے میں ’’ ملکیت‘‘ سے کم کسی آپشن پر مطمئن نہیں ہو گے۔ یعنی گرین لینڈ کو بھی ان کی ملکیتی گود کی نذرکردیا جائے۔ صدر ٹرمپ اب یورپ کو بھی دھمکی دینے پر اتر آئے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ امریکا کے بغیر نیٹوکی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے یورپ کو بھی اپنا رویہ درست رکھنا چاہیے۔ گویا اب دنیا میں جو کچھ ہے وہ امریکا ہے اور باقی دنیا فضول ہی ہے۔ یہ انداز نظر خود کو برباد کر دینے والا ہے، کسی اور کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر وینز ویلا اور اس کے رکھتا ہے اعلان کر ویلا پر ملک پر کو بھی ہے اور کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔