دہلی کی ایک عدالت نے کشمیری علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو دہشتگردی، دہشتگردوں کی مالی معاونت اور دہشتگرد تنظیم کی رکنیت کے الزامات سے بری قرار دیا، مگر سازش اور حمایت کے الزامات میں مجرم ٹھہرا دیا۔ عدالت کا فیصلہ تقریر، انٹرویوز اور سوشل میڈیا مواد پر مبنی ہے۔

آسیہ اندرابی خواتین کی تنظیم ’دختران ملت‘ کی بانی ہیں، انہیں اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا اور تقریباً 8 سال سے حراست میں ہیں۔

دہلی کی عدالتی سماعت میں جج چندر جیت سنگھ نے طے کیا کہ انسداد غیر قانونی سرگرمی ایکٹ کے تحت دہشتگردی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

عدالت نے آسیہ اندرابی کو سیکشن 20 (دہشتگرد تنظیم کی رکنیت)، سیکشن 17 (دہشتگردی کے مالی تعاون) اور سیکشن 121 (ریاست کے خلاف جنگ) کے تحت بری کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریکارڈ میں کوئی گواہ ایسا نہیں ہے جو ان کے کسی دہشتگرد عمل میں براہ راست ملوث ہونے کا ثبوت دے۔

تاہم اسی فیصلے میں عدالت نے آسیہ اندرابی کو سیکشن 18 کے تحت دہشتگردی کی سازش، سیکشن 38 اور 39 کے تحت دہشتگرد تنظیم کے ساتھ تعلق اور حمایت، سیکشن 121A کے تحت ریاست کے خلاف سازش، سیکشن 120B کے تحت مجرمانہ سازش، اور سیکشن 153A، 153B، 505 کے تحت قومی اتحاد کے خلاف بیانات دینے پر مجرم ٹھہرا دیا۔

عدالت نے اس نتیجے تک پہنچنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ اندرابی کی تقریریں، انٹرویوز اور سوشل میڈیا پوسٹس ایک مربوط منصوبے کی عکاسی کرتی ہیں، جو کشمیری علاقوں میں غیر قانونی قبضے، علیحدگی پسندی، ملیشیاؤں کی تعریف اور مزاحمت کی ترغیب دیتی ہیں۔

فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانونی طور پر دہشتگرد تنظیم کی رکنیت اور مالی تعاون کی غیر موجودگی کے باوجود، مسلسل عوامی تقریر اور نظریاتی حمایت کو دہشتگرد سازش اور حمایت کے تحت سزا کے لیے کافی قرار دیا گیا۔

آسیہ اندرابی کی قانونی ٹیم توقع کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گی، کیونکہ عدالت نے دہشتگردی کے سب سے سنگین الزامات کو مسترد کیا ہے، مگر صرف اظہار کے ذریعے سازش اور حمایت کے الزامات کو برقرار رکھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار