حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے وفاقی ٹیکس نظام نے مضبوط کارکردگی اور مثبت رفتار دکھائی ہے، جبکہ صوبائی حکومتیں بڑی غیر فعال رہیں، حالانکہ ان کے پاس ٹیکس کے بہت بڑے وسائل موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار

مالی سال 2025 میں وفاقی بورڈ آف ریونیو نے 13 ٹریلین روپے سے زیادہ ٹیکس جمع کیے، جو ملک کے جی ڈی پی کا 11.

3 فیصد بنتے ہیں۔ یہ کارکردگی پاکستان کو 2028 تک جی ڈی پی کے 15 فیصد ٹیکس کے ہدف کے قریب پہنچانے میں مدد دے رہی ہے، جو ملکی اقتصادی استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔

دوسری جانب صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر صرف 979 ارب روپے ٹیکس جمع کیے، جو جی ڈی پی کا 0.85 فیصد بنتا ہے، جبکہ توقع کی گئی تھی کہ صوبے 3 فیصد حصہ دیں گے۔ خاص طور پر خدمات، زرعی آمدنی اور جائیداد کے شعبوں میں صوبائی ٹیکس آمدنی بہت کم رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق، خدمات کے شعبے میں صوبے صرف 2.2 فیصد ٹیکس جمع کر پائے، جبکہ وفاق نے مصنوعات پر 13 فیصد ٹیکس وصول کیا۔ زرعی آمدنی سے صرف 8.4 ارب روپے حاصل ہوئے، جو 3.7 ٹریلین روپے کے قابلِ ٹیکس بنیاد کے مقابلے میں محض 0.2 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا

جائیداد کے ٹیکس نظام، بشمول اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس، جی ڈی پی کا صرف 0.08 فیصد فراہم کرتا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک جیسے ملائیشیا اور انڈونیشیا سے بہت کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی ٹیکس اصلاحات سے پاکستان عالمی ٹیکس معیار کے قریب پہنچے گا، اور صوبائی ریونیو اصلاحات خدمات، زرعی اور جائیداد کے شعبوں میں غیر استعمال شدہ ٹیکس صلاحیت کو بروئے کار لا کر وفاقی ٹرانسفرز پر انحصار کم کر سکتی ہیں۔

یہ اقدامات مالی استحکام کو فروغ دیں گے اور صوبوں اور وفاق کے درمیان شفاف اور مضبوط مالی تعلقات قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی مالی معاونت بھی بہتر ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی معیشت ٹیکس صوبائی آمدنی وفاقی آمدنی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی معیشت ٹیکس وفاقی ا مدنی جی ڈی پی

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ