پاکستان کی مالیاتی استعداد میں بہتری، وفاقی ٹیکس میں اضافہ، صوبائی آمدنی میں کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے وفاقی ٹیکس نظام نے مضبوط کارکردگی اور مثبت رفتار دکھائی ہے، جبکہ صوبائی حکومتیں بڑی غیر فعال رہیں، حالانکہ ان کے پاس ٹیکس کے بہت بڑے وسائل موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار
مالی سال 2025 میں وفاقی بورڈ آف ریونیو نے 13 ٹریلین روپے سے زیادہ ٹیکس جمع کیے، جو ملک کے جی ڈی پی کا 11.
دوسری جانب صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر صرف 979 ارب روپے ٹیکس جمع کیے، جو جی ڈی پی کا 0.85 فیصد بنتا ہے، جبکہ توقع کی گئی تھی کہ صوبے 3 فیصد حصہ دیں گے۔ خاص طور پر خدمات، زرعی آمدنی اور جائیداد کے شعبوں میں صوبائی ٹیکس آمدنی بہت کم رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق، خدمات کے شعبے میں صوبے صرف 2.2 فیصد ٹیکس جمع کر پائے، جبکہ وفاق نے مصنوعات پر 13 فیصد ٹیکس وصول کیا۔ زرعی آمدنی سے صرف 8.4 ارب روپے حاصل ہوئے، جو 3.7 ٹریلین روپے کے قابلِ ٹیکس بنیاد کے مقابلے میں محض 0.2 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
جائیداد کے ٹیکس نظام، بشمول اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس، جی ڈی پی کا صرف 0.08 فیصد فراہم کرتا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک جیسے ملائیشیا اور انڈونیشیا سے بہت کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی ٹیکس اصلاحات سے پاکستان عالمی ٹیکس معیار کے قریب پہنچے گا، اور صوبائی ریونیو اصلاحات خدمات، زرعی اور جائیداد کے شعبوں میں غیر استعمال شدہ ٹیکس صلاحیت کو بروئے کار لا کر وفاقی ٹرانسفرز پر انحصار کم کر سکتی ہیں۔
یہ اقدامات مالی استحکام کو فروغ دیں گے اور صوبوں اور وفاق کے درمیان شفاف اور مضبوط مالی تعلقات قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی مالی معاونت بھی بہتر ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی معیشت ٹیکس صوبائی آمدنی وفاقی آمدنی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی معیشت ٹیکس وفاقی ا مدنی جی ڈی پی
پڑھیں:
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔
مزید پڑھیںسونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔
دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔