ایرانی صورتحال کی مسلسل نگرانی: ٹرمپ کا ایران کیخلاف تمام آپشن کھلے رکھنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے حوالے سے اپنا سخت اور محتاط مؤقف ایک بار پھر دہرایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام ممکنہ آپشنز بدستور کھلے رکھے ہیں۔
واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم ایران میں جاری حالات کا مسلسل اور گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں، سیکورٹی کریک ڈاؤن اور مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات پر امریکی حکومت کو شدید تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف تشدد کے تسلسل کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔
کیرولائن لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران میں 800 افراد کو دی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد کو روکا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی دباؤ ایران کے فیصلوں پر اثر ڈال رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مزید بتایا کہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے، جس کا مقصد ایرانی حکومت کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی پر مجبور کرنا ہے۔
دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق اپنے مؤقف میں تبدیلی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ممالک کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے واشنگٹن سے رابطے کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی عسکری کارروائی سے پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اپنی خارجہ پالیسی میں سفارتکاری، اقتصادی دباؤ اور دیگر اقدامات سمیت تمام راستوں کو زیر غور رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے تاہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز پر غور کرنا اس کا حق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نے ایران ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔