نیتن یاہو کی ٹرمپ سے درخواست، ایران پر حملہ موخر کردیں: امریکی اخبار کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
اس بیان کو اس بات کا اشارہ سمجھا گیا کہ صدر ٹرمپ ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں بھی صدر ٹرمپ نے اسی نوعیت کا مبہم اشارہ دیا تھا حالانکہ اس وقت وہ ایران پر حملے کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کردہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے اور حملے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سکیورٹی ادارے ملک گیر احتجاج کے معاملے پر آگے کیا اقدام کرتے ہیں۔
اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران پر
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔