اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا، نوٹیفکیشن سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا، نوٹیفکیشن سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (سب نیوز) اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے مطابق، محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن اپوزیشن ارکان کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن کی کاپی میڈیا کو بھی فراہم کر دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمقبوضہ کشمیر: بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا مقبوضہ کشمیر: بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا قومی اسمبلی اجلاس؛ اسپیکر نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا اعلان کردیا عشرت فاطمہ کا ریڈیو پاکستان کو الوداع ، حکومت نے پی ٹی وی میں کام کی پیشکش کردی نو مئی سے متعلق پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ غیر قانونی ہے: سلمان اکرم سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے 159 ارکان کی رکنیت معطل، پارلیمنٹ میں داخلہ بند پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سب نیوز کر دیا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔