پی آئی اے کا انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن 'گارودا' سے معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سٹی42: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں تک سہولت فراہم کرنے کے لیے انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن 'گارودا' کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے اور گارودا کے درمیان کارگو اسپیشل پرو ریٹ ایگریمنٹ پر دستخط کیے گئے ہیں، جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو کر جولائی 2027 تک برقرار رہے گا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی ایکسپورٹرز اپنے کارگو کو جدہ اور کوالالمپور کے راستے جکارتہ اور دیگر بین الاقوامی شہروں تک پہنچا سکیں گے۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
مزید برآں، سڈنی، میلبورن، سنگاپور، ہانگ کانگ، بینکاک، شنگھائی، گوانگزو، سیول اور آسٹریلیا کی مارکیٹوں تک بھی پاکستانی مصنوعات کی رسائی ممکن ہوگی۔
معاہدے کے تحت برآمد کنندگان اور مال بردار ایجنٹس کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کارگو کی ترسیل اور مسابقتی نرخ بھی یقینی بنائے گئے ہیں، جس سے پاکستانی برآمدات میں تیزی اور سہولت آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔