اسلام آباد (عترت جعفری) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں ترقی، مستقبل کے اہداف، سرمایہ کاری کے مواقع، صحت، زراعت، آبپاشی اور تعلیم کی دستیاب سہولتوں کے حوالے سے کامیابیوں اور آئندہ کے وژن کو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے ٹیکس کی کلیکشن کو بھی صوبوں کے سپرد کر دیا جائے۔ این ایف سی میں صوبوں کا شئیر کم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ (Devolve)، گڈز پر سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں (Devolve) کو دے دی جائے۔ اسلام آباد کے مسئلے بھی ہمارے ہی ہیں۔ ہم ان کو ایڈریس کرنا چاہتے ہیں۔ صوبے زیادہ ٹیکس جمع کر کے دے دیں گے۔ اشیاءپر سیلز ٹیکس کی کلیکشن کی صلاحیت کہیں زیادہ موجود ہے۔ سندھ کے پاس پن بجلی سے 50 ہزار میگا واٹ بجلی کی تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سرکاری عمارتوں کو سولرائزیشن پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جس کی ایک مثال سندھ تھرکول کمپنی ہے۔ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر 5.

2 بلین ڈالر کے منصوبے سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ سندھ میں بنے ہوئے جدید ہسپتالوں میں بیرون ملک سے بھی لوگ آ کر علاج کروا رہے ہیں۔ پانی کی قلت کے علاقوں میں 200 سمال ڈیمز بنائے گئے۔ سندھ میں 57 ہزار کلومیٹر کا روڈ نیٹ ورک ہے ان میں سے 24 ہزار کلومیٹر سڑکوں کو صوبے نے بحال کیا اور تعمیر نو کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر میں تقریب سے خطاب میں کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکاءکو ''سندھ کی تبدیلی کی کہانی'' سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی و پانی، امن و امان، سماجی تحفظ، معیشت، توانائی اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔ بریفنگ میں 2008 سے 2025 تک کے عرصے کا احاطہ کیا گیا۔ تقریب میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر کے پی کے فیصل کنڈی، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہمایوں خان، پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، پی پی پی پی کے سیکرٹری جنرل سید نیئر بخاری، اسلام آباد میں موجود سفارت کاروں، میڈیا پرسنز اور کثیر تعداد میں دیگر مدعوین نے شرکت کی۔ جبکہ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2010 تک جب سروسز پر سیلز ٹیکس کی وصولی وفاق کے پاس تھی تو 16 ارب روپے وصول کیے جاتے تھے۔ 2011 میں جب صوبے نے اس کام کو سنبھالا تو ایک سال کے اندر یہ وصولی 28 ارب روپے تک پہنچ گئی اور 2024 میں سندھ نے وصولی 307 ارب روپے کی۔ وفاقی ریونیو کی گروتھ 10 فیصد تک رہی جبکہ ہم نے 19 فیصد کی گروتھ حاصل کی۔ انہوں نے کہا صوبے نے 1845 ونڈ پاور سسٹم میں دی جبکہ سندھ کی صلاحیت 50 ہزار میگا واٹ تک کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے میں کٹوتی سے مالی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ٹیکس وصولی کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ٹیکس کی

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن