خلائی برتری کی دوڑ: امریکا نے چاند پر ایٹمی توانائی کا منصوبہ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی محکمہ توانائی نے اس منصوبے کے لیے باقاعدہ اشتراک کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد مستقبل کی خلائی مہمات کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنا ہے۔ اس پیشرفت کو امریکا کی خلائی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ناسا کے مطابق چاند پر نصب کیا جانے والا نیوکلیئر ری ایکٹر جدید نیوکلیئر ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا، جو طویل مدت تک توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ توانائی نہ صرف آئندہ آرٹیمس مہمات میں استعمال ہوگی بلکہ مستقبل میں مریخ کے لیے بھیجے جانے والے مشنز کے لیے بھی بنیادی کردار ادا کرے گی۔
ناسا کا کہنا ہے کہ خلا میں مستقل موجودگی کے لیے شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر توانائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
امریکی خلائی ادارے کے مطابق ناسا اور محکمہ توانائی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت چاند کے علاوہ زمین کے مدار میں بھی نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلائی اسٹیشنز، مصنوعی سیاروں اور گہرے خلائی مشنز کو بلا تعطل توانائی فراہم کرنا ہے، تاکہ انسانی اور سائنسی سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں خلائی تحقیق، نیوکلیئر ری ایکٹرز اور امریکا کی خلائی برتری پر دوبارہ توجہ دینے پر زور دیا گیا تھا۔ اس ایگزیکٹو آرڈر کو امریکا کی نئی خلائی پالیسی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے مقابلے میں برتری حاصل کرنا ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے سیکریٹری کرس رائٹ نے اس منصوبے کو نیوکلیئر توانائی اور خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک عظیم تکنیکی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سائنسی ترقی کی علامت ہوگا بلکہ امریکا کی خلائی قیادت کو مزید مضبوط کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر کی تنصیب مستقبل میں انسانی بستیوں اور مستقل خلائی اڈوں کے قیام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیوکلیئر ری ایکٹر امریکا کی کی خلائی میں ایک چاند پر کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :