data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی محکمہ توانائی نے اس منصوبے کے لیے باقاعدہ اشتراک کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد مستقبل کی خلائی مہمات کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنا ہے۔ اس پیشرفت کو امریکا کی خلائی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ناسا کے مطابق چاند پر نصب کیا جانے والا نیوکلیئر ری ایکٹر جدید نیوکلیئر ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا، جو طویل مدت تک توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ توانائی نہ صرف آئندہ آرٹیمس مہمات میں استعمال ہوگی بلکہ مستقبل میں مریخ کے لیے بھیجے جانے والے مشنز کے لیے بھی بنیادی کردار ادا کرے گی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ خلا میں مستقل موجودگی کے لیے شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر توانائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

امریکی خلائی ادارے کے مطابق ناسا اور محکمہ توانائی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت چاند کے علاوہ زمین کے مدار میں بھی نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلائی اسٹیشنز، مصنوعی سیاروں اور گہرے خلائی مشنز کو بلا تعطل توانائی فراہم کرنا ہے، تاکہ انسانی اور سائنسی سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں خلائی تحقیق، نیوکلیئر ری ایکٹرز اور امریکا کی خلائی برتری پر دوبارہ توجہ دینے پر زور دیا گیا تھا۔ اس ایگزیکٹو آرڈر کو امریکا کی نئی خلائی پالیسی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے مقابلے میں برتری حاصل کرنا ہے۔

امریکی محکمہ توانائی کے سیکریٹری کرس رائٹ نے اس منصوبے کو نیوکلیئر توانائی اور خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک عظیم تکنیکی کامیابی قرار دیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سائنسی ترقی کی علامت ہوگا بلکہ امریکا کی خلائی قیادت کو مزید مضبوط کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر کی تنصیب مستقبل میں انسانی بستیوں اور مستقل خلائی اڈوں کے قیام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیوکلیئر ری ایکٹر امریکا کی کی خلائی میں ایک چاند پر کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان