سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کی صورتحال پر امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا۔ امریکی مندوب نے ایران کو خبردار کیا کہ مظاہرین کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، جبکہ ایران نے واضح کیا کہ وہ کشیدگی یا تصادم نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور قانونی جواب دیا جائے گا۔
امریکا ایران کے ’بہادر عوام‘ کے ساتھ کھڑا ہےسلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ لاکھوں ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور امریکا ایران کے ’بہادر عوام‘ کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین پر وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا، جو عالمی امن و سلامتی کے لیے منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔
امریکی مندوب کے مطابق اگر قتلِ عام نہ رکا تو مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا، اور صدر ٹرمپ باتوں کے بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔
امریکی مندوب مائیک والٹز نے ایران میں انٹرنیٹ بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جان بوجھ کر زمینی حقائق کو دنیا سے چھپانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایران کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والا اور امریکا و اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گااس کے جواب میں اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین نے کہا کہ ایران کا کشیدگی یا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو قوتیں 12 روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں، وہ اب سیاسی عدم استحکام کے ذریعے وہی اہداف حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ایرانی نائب مندوب نے دعویٰ کیا کہ 8 اور 10 جنوری کے دوران ایران نے داعش طرز کی دہشتگردی کا سامنا کیا، ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے مداخلت کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مظاہرین کے تحفظ یا انسانی ہمدردی کے نام پر طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہوں گی۔
ایران کا سلامتی کونسل سے مطالبہغلام حسین نے کہا کہ کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ جارحانہ اقدام کا جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت فیصلہ کن اور قانونی ہوگا، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری غیر قانونی اقدام شروع کرنے والوں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کو بروقت مسترد اور مذمت کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران سلامتی کونسل اقوام متحدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران سلامتی کونسل اقوام متحدہ سلامتی کونسل امریکی مندوب اقوام متحدہ انہوں نے ایران کے جائے گا کیا کہ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔