ایران پر ممکنہ امریکی حملہ کس کے کہنے پر روکا گیا، امریکی اخبار نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
واشنگٹن:
امریکی اخبار نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کی ممکنہ تباہ کن جوابی کارروائی کے خوف کے باعث امریکا سے فوجی کارروائی ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی۔
اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر براہِ راست حملہ اسرائیل کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے اور ایران اسرائیل پر تباہ کن حملہ کر سکتا ہے۔
کشیدگی میں اضافے پر سعودی عرب، قطر اور عمان نے بھی امریکی صدر کو حملہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
مزید پڑھیںمظاہرین پر تشدد کا الزام : امریکا نے ایران کے پانچ اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کردیں
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا کہ ایران پر حملے سے ایرانی حکومت ختم نہیں ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں پورے خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے تمام امریکی فوجی وسائل کو تیار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے جبکہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے دنیا کو ایک ممکنہ بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔