واشنگٹن:

امریکی اخبار نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کی ممکنہ تباہ کن جوابی کارروائی کے خوف کے باعث امریکا سے فوجی کارروائی ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی۔

اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر براہِ راست حملہ اسرائیل کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے اور ایران اسرائیل پر تباہ کن حملہ کر سکتا ہے۔

کشیدگی میں اضافے پر سعودی عرب، قطر اور عمان نے بھی امریکی صدر کو حملہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

مزید پڑھیں

مظاہرین پر تشدد کا الزام : امریکا نے ایران کے پانچ اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کردیں

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا کہ ایران پر حملے سے ایرانی حکومت ختم نہیں ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں پورے خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے تمام امریکی فوجی وسائل کو تیار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے جبکہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے دنیا کو ایک ممکنہ بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ ایران ایران پر

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران