دھند میں جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کیلیے جدید سہولت ہونے کے باوجود پروازیں تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور:
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شدید ترین دھند کے دوران جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے جدید انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم (ILS) کی سہولت موجود ہونے کے باوجود پی آئی اے سمیت ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز کی پروازیں نہ وقت پر لینڈ کر رہی ہیں اور نہ ہی روانہ ہو رہی ہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایئر لائنز موسم بہتر ہونے اور دھند ختم ہونے کے بعد ہی لینڈنگ اور ٹیک آف کا سلسلہ شروع کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد مواقع پر پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ بعض پروازوں کو لاہور کے بجائے اسلام آباد یا دیگر ایئرپورٹس پر اتار لیا گیا۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 150 سے زائد پروازیں ایک سے 15 گھنٹے کی تاخیر کا شکار رہیں، جبکہ 12 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اس صورتحال نے اندرون و بیرون ملک سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو شدید متاثر کیا۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اربوں روپے کی لاگت سے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، تاکہ خراب موسم اور شدید دھند میں بھی ملکی و غیر ملکی پروازیں محفوظ لینڈنگ اور ٹیک آف کر سکیں۔ تاہم ایئر لائنز کے اپنے قواعد و ضوابط اس عمل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ایئر لائنز نے اپنے پائلٹس کے لیے لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے الگ الگ حدِ نگاہ مقرر کر رکھی ہے۔ بعض ایئر لائنز 100 میٹر، کچھ 125 میٹر جبکہ چند 150 میٹر حدِ نگاہ پر ہی آپریشن کرتی ہیں، حالانکہ لاہور ایئرپورٹ پر 50 میٹر حدِ نگاہ میں بھی لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پی آئی اے سمیت ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز نے اپنی مقرر کردہ حدِ نگاہ کے بارے میں تحریری طور پر پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کو آگاہ کر رکھا ہے، جس کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر انہی اصولوں کے تحت جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرتا ہے۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پی آئی اے سمیت بعض ایئر لائنز کے جہاز انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم کے ساتھ مکمل مطابقت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے سہولت موجود ہونے کے باوجود شدید دھند میں لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن نہیں ہو پاتا۔ حالانکہ دھند شروع ہونے سے قبل تمام ایئر لائنز کو سسٹم کی دستیابی سے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ 50 سے 55 پروازیں روانہ اور لینڈ کرتی ہیں، جن کے ذریعے ہزاروں مسافر اندرون و بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔ پروازوں کی تاخیر اور منسوخی کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
اس حوالے سے ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر تمام ضروری سہولیات موجود ہیں اور ایئر لائنز کو مکمل آگاہی دی گئی ہے، تاہم بین الاقوامی سول ایوی ایشن قوانین کے تحت ہر ایئر لائن اپنی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے حدِ نگاہ مقرر کرتی ہے اور ایئر ٹریفک کنٹرول اسی کے مطابق پروازوں کو کلیئر کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ طریقہ کار دنیا بھر میں رائج ہے اور بلاوجہ تاخیر پر ایئر لائنز کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی مسافروں کے مفادات اور ان کی محفوظ منزل تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے جدید، منظم اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے تحت ایئرپورٹ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی لینڈنگ اور ٹیک آف ایئرپورٹ پر ایئر لائنز مسافروں کو کے مطابق ہونے کے کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔