وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ میں یورپی افواج کی تعیناتی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جس کے تحت وہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس قطبی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یورپی ممالک کی فوجی موجودگی نہ تو صدر ٹرمپ کے فیصلے کو متاثر کرے گی اور نہ ہی گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے منصوبے میں کوئی رکاوٹ بنے گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک کا ایک مشترکہ فوجی مشن گرین لینڈ پہنچا ہے اور ڈنمارک نے بھی جزیرے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی تنقید کے جواب میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ خطے میں ڈنمارک کی موجودگی ناکافی ہے۔

فرانس، سویڈن، جرمنی، ناروے، ہالینڈ، فن لینڈ اور برطانیہ نے ڈنمارک کی فوجی مشقوں “آرکٹک ریزیلینس” کے تحت اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی علامتی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد مستقبل کی مشترکہ فوجی مشقوں کی تیاری ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو وہاں موجود رہنا چاہیے جہاں ان کے مفادات کو خطرہ ہو، تاہم انہوں نے علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ دوسری جانب ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹی فریڈرکسن نے امریکہ کے ساتھ گرین لینڈ کے مستقبل پر بنیادی اختلافات کا اعتراف کیا ہے۔

ڈنمارک کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 2026 تک گرین لینڈ میں مستقل فوجی موجودگی کو مزید بڑھایا جائے گا۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ان کے مجوزہ میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” کے لیے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق روس اور چین کی آرکٹک میں بڑھتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول ضروری ہے، اور انہوں نے اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گرین لینڈ کے لیے

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان