سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پینشن سے متعلق ایک اہم اور اصولی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پینشن کوئی رعایت نہیں بلکہ سرکاری ملازم کا آئینی حق ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے محمد عثمان کی پینشنری فوائد سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پینشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق محمد عثمان نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا تھا اور اس وقت وہ 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ استعفیٰ کے وقت وہ قانون نافذ تھا جس کے تحت 20 سال سروس پر پینشن کا حق دیا جاتا ہے۔
محکمہ نے محمد عثمان کی پینشن کی درخواست 25 سالہ سروس کی شرط عائد کرتے ہوئے مسترد کی تھی، جسے سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔
قانون میں 2001 کی ترمیم کا حوالہعدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کے ذریعے ترمیم کر کے پینشن کے لیے اہلیت کی مدت 25 سال سے کم کر کے 20 سال کر دی گئی تھی، جو محمد عثمان کے استعفیٰ کے وقت نافذ العمل تھی۔
پینشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتاسپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ’پینشن دیر سے طلب کرنے پر ختم نہیں ہو جاتی اور پینشن کے معاملات پر لمیٹیشن ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔’
ریگولیشن 418 سے متعلق وضاحتسماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کے تحت پینشن کی مخالفت کی، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریگولیشن 418 کا تعلق صرف سروس کی گنتی سے ہے، نہ کہ پینشن کے حق کو ختم کرنے سے۔
عدالت نے محکمہ اور فیڈرل سروس ٹریبونل کی تشریح کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔
محمد عثمان پینشنری فوائد کے حقدارسپریم کورٹ نے حتمی طور پر فیصلہ دیا کہ محمد عثمان قانون کے مطابق تمام پینشنری فوائد کے حقدار ہیں اور ان کی درخواست مسترد کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔
فیصلہ جسٹس شفیع صدیقی نے تحریر کیا، جو 6 صفحات پر مشتمل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے قرار دیا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔