ڈاکٹرز کی ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز کی ٹیم نے جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز کی 3 رکنی ٹیم اڈیالا جیل پہنچی۔ ڈاکٹرزکی ٹیم میں ڈاکٹر ذوالفقار، ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر عاصل شامل تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے عمران خان کی آنکھوں اور دانتوں کا معائنہ کیا، ٹیم میں شامل جنرل فزیشن نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ کیا۔
کشمش کو بھگو کر کھائیں یا بغیر بھگوئے؟۔۔ جانیے
جیل ذرائع نے کہا کہ ڈاکٹرز نے عمران خان کو کچھ دوائیں تجویز کی ہیں جب کہ ڈاکٹرز کی ٹیم جیل انتظامیہ کو میڈیکل رپورٹ بھیج دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: معائنہ کیا ڈاکٹرز کی کی ٹیم
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔