خوفناک اژدہا سوتی خاتون کے بستر پر چڑھ گیا، آنکھ کھلنے پر کیا ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
آپ رات کو خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوں اور اچانک احساس ہو کہ بستر پر آپ کے ساتھ کچھ اور بھی ہے۔ اور آنکھ کھلنے پر علم ہو کہ وہ کچھ اور ایک بڑا اژدہا ہے تو آپ کی حالت کیا ہوگی؟
آسٹریلیا کے شہر برسبین میں ایک خاتون اس وقت شدید حیرت اور خوف کا شکار ہوگئیں جب وہ نیند سے جاگیں تو ان کے بستر پر ڈھائی میٹر لمبا کارپٹ پائتھن (اژدہا) موجود تھا۔
ریچل بلور نامی خاتون کے مطابق ابتدا میں انہیں لگا کہ ان کے پیٹ اور سینے پر پڑا وزن ان کے پالتو کتے کا ہے۔ انہوں نے جب کمبل پر ہاتھ رکھا تو نیچے موجود چیز حرکت کرنے لگی۔ ریچل نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ اسی لمحے انہیں احساس ہوا کہ یہ کوئی جانور نہیں بلکہ سانپ ہے۔
خاتون نے فوراً اپنے شوہر کو جگایا اور لائٹس جلانے کو کہا۔ روشنی ہوتے ہی شوہر نے بستر پر موجود دیوہیکل اژدہے کو دیکھا اور فوراً خبردار کیا کہ حرکت مت کرنا کیونکہ تمہارے اوپر تقریباً ڈھائی میٹر لمبا سانپ موجود ہے۔
شوہر نے پہلے گھر کے پالتو کتوں کو کمرے سے باہر نکالا تاکہ وہ محفوظ رہیں، جبکہ ریچل کو خود سانپ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے کمرے سے شوہر نے انہیں ہدایت دی کہ آہستہ آہستہ کمبل کے نیچے سے باہر نکلیں۔
ریچل بلور نے نہایت احتیاط سے پہلو بدلتے ہوئے خود کو بستر سے نکالا اور پھر سانپ کو کھڑکی کے راستے واپس باہر جانے میں مدد دی۔
ریچل نے خیال ظاہر کیا کہ سانپ دوسری منزل تک دیوار سے چڑھا، کھڑکی کا شٹر دھکیلا اور پھر سیدھا بستر پر آکر لیٹ گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریچل کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ خوفزدہ نہیں ہوئیں کیونکہ وہ دیہی علاقے میں پلی بڑھی ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ یہ سانپ تھا، مینڈک نہیں، کیونکہ مینڈک انہیں زیادہ ڈراتے ہیں۔
واقعے کے بعد اہلِ خانہ مکمل طور پر محفوظ رہے، تاہم یہ ان کی زندگی کا سب سے عجیب اور ناقابلِ یقین تجربہ بن گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔