افغانستان میں طالبان رجیم شدید اندرونی اختلافات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
افغانستان کی طالبان رجیم میں شدید اختلافات سامنے آگئے۔
برطانوی میڈیانے طالبان قیادت میں دھڑے بندی کو بے نقاب کردیا۔ بی بی سی نے طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی لیک شدہ آڈیو جاری کردی، جس میں وہ اختلافات کے باعث طالبان رجیم ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قندہار میں موجود شدت پسند نظریات کی حامل قیادت افغانستان کو سخت گیر بیانیے کے تحت چلانا چاہتی ہے۔ کابل کے وزرا ہر حال میں عملدرآمد پر مجبور ہیں، مخالفت کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں یا برطرف کیا جاتا ہے۔
انٹرنیٹ اور خواتین کی تعلیم پر پابندی کے احکامات قندہار سے جاری ہوئے جبکہ کابل میں موجود وزرا سخت گیر نظریات کے خلاف ہیں لیکن سزاؤں اور برطرفیوں کے ڈر سے احکامات پر عملدرآمد پر مجبور ہیں۔ کابل میں موجود دھڑے کی قیادت عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی کر رہے ہیں جوشیخ ہیبت اللہ کی سخت گیر پالویسیوں سے ناخوش ہیں
طالبان کے امیر ہیب اللہ اخوندزادہ اب اپنی وفادار فورس تشکیل دے رہے ہیں۔ جس سے افغانستان ایک اور خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ طالبان رجیم افغانستان کو ایک اور خانہ جنگی کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طالبان رجیم
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔