گفت و شنید سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے، شاہ محمود قریشی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
لاہور:
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے، گفت و شنید سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔
کمرہ عدالت میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خان صاحب نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے، ہم تو جیلوں میں پڑے ہیں ہمارے پاس انفارمیشن کم آتی ہے، محمود خان اچکزئی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔
صحافی کے سوال کیا آپ فواد چوہدری کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ساتھ دیں گے؟ پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا وائس چیئرمین ہوں پارٹی پالیسی سے نہیں ہٹ سکتا مگر یہ سوچنا ہوگا کہ آخر اسکا حل کیا ہے؟۔
صحافی کے سول کیا فواد چوہدری آپ کی مرضی سے آپکو ملنے آئے تھے؟ کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فواد چوہدری اور میں ایک پارٹی میں رہے ہیں، میں اسپتال میں تھا تو وہ عیادت کے لیے آگئے، اب گھر آئے مہمان کو کیا کہوں کہ کیوں ملنے آئے ہو؟۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے، ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہے کہ انکی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، افغانستان کی خوشحالی کا راستہ پاکستان سے ہے، افغانستان اگر استحکام چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہئے، ایران کے بارڈر پر فی الحال صورتحال کنٹرول میں ہے، ہم نے بھارت کو جنگ میں ہرایا اللہ نے ہمیں عزت دی مگر ابھی تک بھارت سے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔