بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 10 جماعتی اتحاد نے نشستوں کی تقسیم پر اتفاق کا اعلان کر دیا ہے۔

اس اتفاق رائے کے تحت 300 میں سے 253 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے جائیں گے، تاہم اس اتحاد کو ’11 جماعتی انتخابی اتحاد‘ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ اہم اسلامی سیاسی جماعت، اسلامی اندولن بنگلہ دیش، تاحال اس معاہدے میں شامل نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، شیڈول میں تبدیلی نہیں، چیف ایڈوائزر محمد یونس

یہ اعلان جمعرات کی شب ڈھاکا میں انسٹی ٹیوشن آف ڈپلومہ انجینیئرز میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

اتحاد کے رہنماؤں کے مطابق اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے لیے 47 نشستیں خالی رکھی گئی ہیں اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ جماعت جلد یا بدیر اتحاد کا حصہ بن جائے گی۔

Just Now : Jamaat Lead 11 Party ( Mostly Islamic) Announces Their Mahagatbandhan To Stop BNP In Election

And Guess What One Of Biggest Islamic Party Islami Andolan Boycotted The Press Conference Due To Seat Demand Differences.

Jamaat Will Fight In 179 Seats
NCP 30
Khilafat 30… pic.twitter.com/aexo0ualZK

— বাংলার ছেলে ???????? (@iSoumikSaheb) January 15, 2026

نشستوں کی تقسیم کے مطابق بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی 179 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی، جب کہ نیشنل سٹیزن پارٹی 30، بنگلہ دیش خلافت مجلس 20، خلافت مجلس 10 جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے 7 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب اتحاد میں شامل اے بی پارٹی 3، بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی 2 اور نظامِ اسلام پارٹی بھی 2 نشستوں پر انتخاب لڑیں گی، اس کے علاوہ بنگلہ دیش خلافت اندولن اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اتحاد کا حصہ تو رہیں گی، تاہم وہ کسی حلقے میں امیدوار کھڑے نہیں کریں گی۔

مزید پڑھیں: انقلاب منچہ کا آج بنگلہ دیش بھر احتجاج کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے کہا کہ یہ انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ وجود کے تحفظ اور ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کی جدوجہد ہے۔

بعد ازاں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے وضاحت کی کہ اسلامی اندولن کی غیر موجودگی کے باوجود اتحاد ٹوٹا نہیں ہے اور بات چیت کا عمل جاری ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی اندولن آخرکار اتحاد میں شامل ہو جائے گی۔

دوسری جانب اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کی دوپہر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے الگ بریفنگ دے گی، پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے میڈیا کو بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ حتمی معاہدے کے امکانات ’انتہائی کم‘ ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں 16 ماہ کے دوران 113 مزارات پر حملے، ڈھاکہ ڈویژن سرفہرست

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ نشستوں کی تقسیم بنی، اسلامی اندولن نے ابتدا میں 80 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جو بعد میں 70 تک کم کر دیا گیا، جب کہ جماعتِ اسلامی 45 نشستوں سے زیادہ دینے پر آمادہ نہیں تھی۔

آخری لمحات میں ثالثی کی کوششوں کے باوجود کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ اسی تناظر میں اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے 10 جماعتوں نے 47 نشستیں اسلامی اندولن کے لیے مختص کر کے اعلان آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی عوامی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی منظوری دیدی

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے، جن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوگا۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,568 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ 20 جنوری کو دستبرداری کی آخری تاریخ مقرر ہے۔

اتحاد کے معاہدے سے قبل جماعتِ اسلامی 276 اور اسلامی اندولن 272 حلقوں میں امیدوار نامزد کر چکی تھیں، جب کہ دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی نامزدگیاں جمع کرائیں، جن سے طے شدہ حلقوں میں دستبرداری متوقع ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس جزوی اتحاد کے انتخابی اثرات پر ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔ اگرچہ جماعتِ اسلامی ایک وسیع اتحاد بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے، تاہم اسلامی اندولن جیسی بڑی اسلامی سیاسی قوت کی علیحدہ شناخت اتحاد کے مشترکہ ووٹ بینک کو کمزور کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئینی اصلاحات اسلامی اندولن امیر بنگلہ دیش ثالثی جماعت اسلامی خلافت مجلس ڈھاکا ریفرنڈم شفیق الرحمان عبداللہ محمد طاہر لبرل ڈیموکریٹک پارٹی مذاکرات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئینی اصلاحات اسلامی اندولن بنگلہ دیش ثالثی جماعت اسلامی خلافت مجلس ڈھاکا ریفرنڈم شفیق الرحمان عبداللہ محمد طاہر لبرل ڈیموکریٹک پارٹی مذاکرات اسلامی اندولن بنگلہ دیش میں اتحاد کے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی

ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی  گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی