پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نے جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ،چوہدری شجاعت سے سید علی گیلانی کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
(حسن علی) پاکستان مسلم لیگ کے صدر وسابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین ہمیشہ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ موجود رہا ہے، دونوں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے استحکام کے لئے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید علی گیلانی نے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پرصوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین بھی ملاقات میں موجود تھے ۔علی حیدر گیلانی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی ۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین سے ہمارے دیرینہ تعلقات اور احترام کا رشتہ موجود ہے ،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کیلئے جلد حاضر ہوں گے ۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین ہمیشہ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ موجود رہا ہے، دونوں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے استحکام کے لئے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے دیرینہ مراسم قائم ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کا منتظر ہوں ۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
ملاقات میں صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بات کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چوہدری شجاعت حسین چوہدری شجاعت حسین سید علی گیلانی رہائش گاہ ملاقات ملاقات چوہدری شجاعت حسین چوہدری شجاعت حسین چوہدری شجاعت حسین ملاقات چوہدری شجاعت حسین ملاقات ملاقات چوہدری شجاعت حسین پاکستان مسلم لیگ یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔