data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان گٹھ جوڑ کے ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں جبکہ دشمن عناصر کی جانب سے ان دہشت گرد گروہوں کو ہر طرح کے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ریاستی رِٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا،  دہشت گردی کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے، تاہم جس عزم اور حکمتِ عملی کے ساتھ 2018 میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا گیا تھا، اسی طرح اب بھی اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

شہباز شریف  نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا اور ملک کے امن سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط کے واضح شواہد موجود ہیں اور دشمن قوتیں انہیں مالی، لاجسٹک اور دیگر سہولتیں فراہم کر رہی ہیں، پاکستان نے بارہا افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، تاہم اب ریاست اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام مکتبۂ فکر کے جید علما کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا خوش آئند ہے، آج قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت ہے، شاید ماضی میں کبھی نہیں تھی۔ مسائل کا حل طاقت کے بجائے باہمی مشاورت، اتحاد اور قومی اتفاقِ رائے سے ممکن ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشت گرد عناصر ملک میں خوف و ہراس پھیلا کر ترقی کا پہیہ روکنا چاہتے ہیں لیکن پاکستانی قوم نے ماضی میں بھی قربانیوں سے امن قائم کیا ہے اور آئندہ بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائے گی، وہ اپنے خطبات اور بیانات کے ذریعے امن، رواداری اور ریاست کے ساتھ یکجہتی کا پیغام عام کریں۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ علما ملک میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، حکومت زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت پاکستان کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔

وہاج فاروقی ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جائے گا کہا کہ

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم