پختونخوا؛ دہشتگردوں کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، جوابی آپریشن میں 2 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے رات گئے پولیس چیک پوسٹ کھتی پر حملہ کیا، جس کے بعد پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کردیا، جس پر جوابی کارروائی میں 2 خوارج ہلاک ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ڈی آئی خان کے علاقے میں نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے رات گئے پولیس چیک پوسٹ کھتی پر حملہ کیا، جس کے بعد پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس نے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کرتے ہوئے 2 خوارج کو جہنم واصل کردیا۔ ڈی پی او ڈیرہ سجاد احمد صاحبزادہ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کا ایک جوان بھی معمولی زخمی ہوا۔
قبل ازیں حملے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او ڈیرہ سجاد احمد صاحبزادہ دیگر پولیس افسران اور نفری کے ہمراہ خود موقع پر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں نے دلیری اور جواں مردی سے حملہ پسپا کیا۔ پولیس کا مورال بلند ہے۔ دریں اثنا بنوں سینٹرل جیل کے چیکنگ پوائنٹ پر موجود پولیس جوانوں پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے دستی بم سے حملہ کیا، تاہم واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس چیک پوسٹ پر حملہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔