کراچی میں سوئی سدرن کا 48 گھنٹے کے لیے گیس کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کی شدید قلت اور کم پریشر کی شکایات میں اضافے کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی نے گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا اعلان کر دیا ہے، کمپنی نے رہائشی علاقوں میں گیس کی فراہمی بہتر بنانے کی غرض سے صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز کی گیس عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوئی سدرن گیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی 17 جنوری صبح 8 بجے سے معطل کی جائے گی، جو پیر کی صبح 8 بجے تک بند رہے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک بھر میں سردی کی شدت کے باعث گھریلو گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سسٹم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ترجمان سوئی سدرن گیس کے مطابق سرد موسم کے دوران گھریلو صارفین کی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث گیس نیٹ ورک کو متوازن رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر گھریلو صارفین کو گیس کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کے لیے صنعتی شعبے اور سی این جی اسٹیشنز کی سپلائی عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں رہائشی علاقوں میں گیس پریشر میں واضح بہتری آنے کی توقع ہے، جس سے شہریوں کو کھانا پکانے اور دیگر روزمرہ گھریلو ضروریات کے لیے نسبتاً بہتر گیس سپلائی میسر آ سکے گی۔
سوئی سدرن گیس نے صنعتی صارفین اور سی این جی اسٹیشنز سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ مقررہ مدت مکمل ہوتے ہی گیس کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس کے محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ محدود وسائل کے باوجود زیادہ سے زیادہ صارفین کو سہولت فراہم کی جا سکے اور نظام پر غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور سی این جی اسٹیشنز سوئی سدرن گیس گیس کی کے لیے
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔