ہفتہ وارمہنگائی کی شرح میں 0.25فیصد اضافہ ،3.87فیصد تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ہفتہ وارمہنگائی کی شرح میں 0.25فیصد اضافہ ،3.87فیصد تک پہنچ گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ملک میں مہنگائی میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے،ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں 0 اعشاریہ25فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 3اعشاریہ87فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 13 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ 13اشیاکی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی،جبکہ 24 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا،مہنگی ہونیوالی اشیا میں ٹماٹر کی قیمت میں 27اعشاریہ64فیصد،گندم آٹے میں 3اعشاریہ26 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 2اعشاریہ19فیصد اضافہ ہوا۔سرخ مرچ،دال مونگ، خشک دودھ اور لکڑی بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں،گزشتہ ہفتے ٹماٹر 6اعشاریہ72فیصد، پیاز 3اعشاریہ82فیصد اور چکن 1اعشاریہ66فیصد سستا ہوا،اس کے علاوہ نمک، دال چنا،چاول،گھی اوردال مسور کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
سالانہ بنیادوں پر گندم کے آٹے کی قیمت میں 35فیصد جبکہ انڈوں کی قیمت میں 21فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے،ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 7فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ،چینی کی قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت 10اعشاریہ43فیصد تک بڑھ چکی ہیں،بیف،مرچ،گڑ، لکڑی اور کپڑے بھی سالانہ بنیاد پرمہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں،ایک سال کے دوران گیس چارجزمیں بھی 30فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپمز کے ڈاکٹرز کی ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ کیا پمز کے ڈاکٹرز کی ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ کیا میری جعلی آواز میں لوگوں سے پیسے مانگے گئے، اسپیکر قومی اسمبلی کا انکشاف اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیئے گئے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے بنوایا، جے یو آئی کا انکشاف شب معراج کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی مسلم امہ کو مبارکباد پی آئی اے کا انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن سے معاہدہ طے پاگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔