عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافے کے بعد اب سونے کی قیمت بغیر کسی ردوبدل کے مستحکم ہے۔ ملک میں فی تولہ سونا 482,462 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 413,633 روپے کا ہو گیاہے۔
اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 379,177 روپے ہوگئی۔
جبکہ عالمی بازار میں بھی سونے کی قیمت مستحکم رہی جس کے بعد سونا 4601 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔
واضح رہے مسلسل اضافے کے بعد گزشتہ روز ملک میں فی تولہ سونا 3700 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 82 ہزار 462 روپے کا ہوگیا تھا جب کہ 10 گرام سونا 3172 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 13 ہزار 633 روپے کا ہو گیاتھا۔جبکہ عالمی بازار میں سونا 47 ڈالر کمی کے بعد 4601 ڈالر فی اونس کا ہوگیاتھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں سونا ڈالر سونے کی قیمت سونے کی قیمت مستحکم سونے کی قیمت میں اضافہ سونے کی قیمت میں کمی فی تولہ سونا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سونا ڈالر سونے کی قیمت سونے کی قیمت مستحکم سونے کی قیمت میں اضافہ سونے کی قیمت میں کمی فی تولہ سونا سونے کی قیمت روپے کا کے بعد
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔