شب معراج روحانی بلندی، کامل ایمان اورقرب الٰہی کاذریعہ ہے، صدرمملکت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہاہے کہ شبِ معراج کا بابرکت موقع پوری امت مسلمہ کےلئے روحانی بلندی، کامل ایمان اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی عظیم علامت ہے۔ اس مقدس رات اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو وہ عظیم الشان اعزاز عطا فرمایا جو انسانی فہم سے بالاتر ہے اور جو اہل ایمان کےلئے سرچشمۂ ہدایت بنا رہے گا۔
شب معراج پر اپنے خصوصی پیغام میں صدرمملکت نے کہا کہ واقعۂ معراج ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پختہ ایمان، صبر اور اطاعت کے ذریعے انسان بلند ترین اخلاقی اور روحانی درجات تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزمائشیں اور مشکلات عارضی ہوتی ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصرت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شب معراج کو امت مسلمہ کو نماز کا تحفہ عطا کیا گیا جو خالق اور بندے کے درمیان براہ راست اور مسلسل تعلق قائم کرتی ہے۔ نماز محض عبادت نہیں بلکہ یہ نظم و ضبط، کردار سازی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کا ذریعہ ہے جو ایک منصفانہ اور متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
صدرمملکت نے کہا کہ اس موقع پر میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ شب معراج کے پیغام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے تاکہ ہم برداشت، قانون کی بالادستی، سماجی انصاف اور انسانیت کےلئے ہمدردی کو فروغ دے سکیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایسی ریاست کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جہاں امن، صبر اور اخلاقی اقدار ہماری قومی شناخت ہوں۔
صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا اور بالخصوص امت مسلمہ کو پیچیدہ فکری، سماجی اور انسانی چیلنجز کا سامنا ہے، شب معراج اتحاد، استقامت اور امید کا پیغام دیتی ہے۔ یہ بابرکت رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشترکہ چیلنجز سے صرف یکجہتی اور اخلاقی عزم کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔
صدرمملکت نے مزید کہا کہ میں الّلہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ پاکستان کو امن و سلامتی، قومی ہم آہنگی اور پائیدار ترقی عطا فرمائے اور ہمیں ایک مضبوط، باوقار اور فلاحی ریاست کے طور پر آگے بڑھنے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ معراج کے پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اللہ تعالی نے کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔