ایران میں موجود ہندوستانیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے، عمران مسعود کا وزیرِ خارجہ کو خط
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں فوری فیصلہ لے اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دے کہ بیرونِ ملک موجود ہر ہندوستانی کی جان حکومت کیلئے قیمتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود نے وزیرِ خارجہ کو ایک خط لکھ کر ایران میں موجود ہندوستانی شہریوں اور طلبہ کی فوری اور محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں ایران کی موجودہ صورتحال کو نہایت تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ممکنہ امریکی کارروائیوں اور اندرونی احتجاجی سرگرمیوں کے باعث وہاں مقیم ہندوستانیوں کو سنگین مشکلات اور خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عمران مسعود نے زور دیا کہ تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کو فوری طور پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے تمام ہندوستانی شہریوں اور طلبہ سے رابطہ قائم کرنا چاہیئے، تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں معمولی تاخیر بھی بڑے انسانی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
خط میں انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی اپنے شہریوں کو ایران سے نکالنے کے لئے خصوصی پروازوں کا انتظام کر چکے ہیں، اس لئے ہندوستانی حکومت کو بھی خصوصی پروازیں شروع کرنی چاہئیں تاکہ وطن واپسی کا عمل تیز اور محفوظ ہو سکے۔ انہوں نے خاص طور پر ان ہندوستانی مزدوروں کا ذکر کیا جو ایران میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور جن کی مالی حالت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ خود اپنے اخراجات پر وطن واپس آ سکیں۔ عمران مسعود کے مطابق ایسے شہریوں کی بحفاظت اور باعزت واپسی حکومت کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں فوری فیصلہ لے اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دے کہ بیرونِ ملک موجود ہر ہندوستانی کی جان حکومت کے لئے قیمتی ہے۔
اسی دوران بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے معاشی اعداد و شمار پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ اگر ہندوستان کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے تو اس کے لیے کم از کم دس فیصد سالانہ ترقی ضروری ہے، جبکہ موجودہ شرحِ نمو پر اطمینان کا اظہار تشویش ناک ہے۔ مزید برآں نامور موسیقار اور گلوکار اے آر رحمن کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر اعزاز یافتہ شخصیت کو بھی اپنے ہی ملک میں مواقع کے فقدان کی شکایت ہو تو یہ پورے سماج کے لئے سنجیدہ سوال ہے۔ ان کے مطابق محض مذہب کی بنیاد پر مواقع سے محرومی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس پر فوری توجہ دی جانی چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔