خاران، فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کیخلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی ،12 ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
( سٹی42) بلوچستان کے علاقے خاران میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران تین مختلف جھڑپوں میں 12 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
آئی ایس پی آر کے مطابق15 سے20 دہشت گردوں نے سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بنک اور حبیب بنک برانچز پر حملے کیے، بنکوں سے 34 لاکھ روپے کی لوٹ مار کی،
سیکیورٹی فورسز نے موثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا پیچھا کیا اور 3 مختلف جھڑپوں میں 12 دہشت گرد ہلاک کر دیا۔
فتنہ الہندوستان کےدہشت گردوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں یرغمالی بنانے کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 فتنہ الہندوستان سیکیورٹی فورسز کارروائی ہلاک سیکیورٹی فورسز کارروائی ہلاک فتنہ الہندوستان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔