خاران میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی : فائل فوٹو
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ خاران میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ دہشت گردوں نے بینکوں میں لوٹ مار کا منصوبہ بنایا تھا۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں فرنٹیئر کور نے اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردوں نے اے ٹی ایم توڑ کر پیسے لے جانے کی کوشش کی۔ ایک بینک سے 34 لاکھ روپے لے کر فرار بھی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خاران میں 15 سے 20 لوگوں نے داخل ہونے کی کوشش کی، بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام بنائی گئی، اس واقعے میں ایک عام شہری زخمی ہوا وہ سی ایم ایچ میں زیر علاج ہے، تین مقامات پر 4 دہشت گردوں کو موقع پر ہی مارا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں فرنٹیئر کور نے اہم کردار ادا کیا، 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، خاران میں ان لوگوں کا منصوبہ بینکوں میں لوٹ مار کا تھا، جسے ناکام بنا دیا گیا، یہ لوگ نظریے سے شروع ہوکر بینک ڈکیٹی تک پہنچ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کو وزیر اعلی
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔