ٹریفک پولیس مو بائل ایپ کے ذریعے بھی’ ’ای چالان‘‘کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: کراچی میں سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ای چالان کے بعد اب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے لیے موبائل فون کی خصوصی ایپ کے ذریعے بھی ای چالان کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اس سلسلے میں ایک خصوصی ایپ تیار کرلی گئی ہے اور جلد ہی تجرباتی طور پر کام شروع ہو جائے گا۔ایپ کے تحت کراچی کے مجاز پولیس افسران اسے اپنے ذاتی موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کریں گے۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی افسر کسی گاڑی کی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی دیکھتا ہے تو وہ فوری طور پر ایپ کے ذریعے تصویر بنا کر ارسال کرے گا۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
حکام کے مطابق خودکار سسٹم کے ذریعے یہ تصویر ٹریفک پولیس کے ای چالاننگ افسر تک پہنچے گی، جو خلاف ورزی کا ای چالان جاری کرے گا۔ اس چالان میں اسے جاری کرنے والے ٹریفک پولیس افسر کی شناخت بھی درج ہوگی.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔