نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے اجلاس کو “سرکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس عالمی امن کے لیے ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں ایران میں موجودہ صورتحال کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہیں۔

روسی مندوب نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی کشیدگی یا تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے لیے شہریوں اور املاک کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ امریکی بیانات جن میں ایرانی عوام کو اداروں پر قبضے کی ترغیب دی گئی، کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔

روسی مندوب کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ہے، اور امریکی کارروائی کی صورت میں پورا خطہ مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ روس نے مسائل کے پرامن حل کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشن کھلے رکھ دیے، وائٹ ہاؤس کا بڑا بیان

ایران کی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے، سلامتی کونسل اجلاس میں گرما گرم بحث

کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کا سلامتی کونسل میں دو ٹوک پیغام

دوسری جانب چینی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا فوری طور پر ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوشش ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کو “جنگل کے قانون” کی طرف دھکیلنے کے خلاف ہے اور کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔

چینی مندوب نے زور دیا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور ایرانی عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایران کو درپیش مسائل کے حل میں مدد کرنی چاہیے اور تمام اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔

ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کی، جس میں انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایرانی حکومت اور عوام متحد رہیں گے اور موجودہ مشکلات پر قابو پا لیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل کہ ایران ایران کے انہوں نے کسی بھی کے خلاف کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار