کراچی میں موبائل ایپ کے ذریعے بھی ای چالان کا آغاز ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں سیف سٹی کے کیمروں کے ذریعے ای چالان کے بعد اب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر موبائل فون کی خصوصی ایپ کے ذریعے بھی چالان کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ایپ تیار کرلی گئی ہے جس پر جلد تجرباتی طور پر کام شروع ہوگا۔ کراچی کے مجاز پولیس افسران اس ایپ کو اپنے ذاتی موبائل فونز میں ڈاؤن لوڈ کریں گے اور ڈیوٹی کے دوران اپنے علاقے میں کسی بھی گاڑی کی خلاف ورزی دیکھنے پر ایپ کے ذریعے تصویر کھینچیں گے۔
حکام نے بتایا کہ خودکار سسٹم کے تحت یہ تصویر ٹریفک پولیس کے ای چالاننگ افسر تک پہنچے گی، جو خلاف ورزی کا ای چالان جاری کرے گا۔ اس ای چالان میں خلاف ورزی کرنے والے کے ساتھ ساتھ متعلقہ پولیس افسر کی نشاندہی بھی شامل ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ذریعے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔