خاران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 12 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
خاران میں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ ناکام بنا دیا اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگرد ہلاک کر دیے۔ یہ کارروائی علاقے میں انسداد دہشتگردی کی مؤثر حکمت عملی کا حصہ تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 15 سے 20 دہشتگردوں نے خاران میں مختلف کارروائیاں کیں اور سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب بینک کو نشانہ بنا کر تقریباً 34 لاکھ روپے لوٹے۔ دہشتگردوں کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں اہلکاروں کو یرغمال بنا کر مزید نقصان پہنچائیں، لیکن سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ مزید کسی بھی دہشتگرد کی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انسداد دہشتگردی کی مہم پوری رفتار کے ساتھ جاری رہے گی اور علاقے میں عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور شہریوں سے بھی کہا گیا ہے کہ مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی اطلاع فوراً حکام کو دیں۔
خیال رہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد اکثر بینکوں اور حساس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں، جس کے باعث سکیورٹی فورسز کی اس طرح کی بروقت کارروائیاں نہایت اہم ہیں۔ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سازوسامان بھی برآمد ہوا ہے، جس سے علاقے میں امن و امان کی بحالی میں مدد ملی ہے۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ عوام کے تعاون سے دہشتگردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ شہری محفوظ رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سکیورٹی فورسز علاقے میں
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔