ناکام پالیسی پر سوال اٹھانا جرم بن چکا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد چھوٹے آپریشنز کے باوجود اگر امن قائم نہیں ہو سکا تو اب یہ سوال اٹھانا بنتا ہے کہ مزید آپریشنز سے امن کی کیا ضمانت ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وادی تیرہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آپریشن سے متاثرہ عوام سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے، سُہیل خان آفریدی نے کہا کہ جب ناکام پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو ہمیں دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے اور مشاورت کی بات کریں تو اسمگلروں سے تعلقات کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، تیرہ کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے، بار بار ناکامی کے باوجود بند کمروں میں فیصلے کیے جا رہے ہیں اور عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ میری اور میری قوم کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ہمیں اپنے عوام کے دکھ درد کا احساس ہے، ان پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے مجھے اور میرے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور میری سرزمین کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے دن سے امن کے لیے آواز بلند کی ہے۔ ہم ماضی میں بھی ان ناکام آپریشنز کے خلاف تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی ایسی پالیسیوں کا حصہ نہیں بنیں گے جو عوام کے لیے تباہی اور بے گھری کا باعث بنیں۔
وزیراعلیٰ نے متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ میں سے ہوں اور مرتے دم تک پہاڑ کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا، عوام کو پہلے اعلان کر کے خوف اور تکلیف میں مبتلا کیا گیا اور پھر انہیں بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ عوام کی عزت، تحفظ اور بحالی اب ان کی براہ راست ذمہ داری ہے اور تیرہ متاثرین کے مسائل میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ متاثرین کی مشکلات فوری کم کی جائیں اور جگہ جگہ لوگوں کو روکنے اور قطاروں میں ذلیل کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
انہوں نے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نادرا کے مزید دفاتر ہنگامی بنیادوں پر قائم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے وعدہ ہے کہ ہم بندوق کو قلم سے بدلیں گے، مستقل اور پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر متفقہ پالیسی بنائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔