جماعت اسلامی سندھ نے بلاول بھٹو زرداری کے دعووں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی سندھ کا کہنا تھا کہ غربت و افلاس اور خوراک کی قلت کی وجہ سے بچے مررہے ہیں، لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کرپشن کی بے تاج بادشاہ ہے جس نے سندھ کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے اپنے نعرے برعکس عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھینا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے اسلام آباد میں پرزٹیشن اور کچھ قوتیں سندھ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنا چاہتی ہیں کے بیان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اچانک سندھ کے وسائل کیسے یاد آگئے حالانکہ وہ اپنے نانا کے دور سے خاص طور گزشتہ 17 سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ میں برسر اقتدار ہیں، جس طرح ان کی پارٹی نے پانی زمینوں کارونجہر پھاڑ سے لیکر گیس بجلی کوئلہ گورکھ ہل اور این ایف سی ایوارڈ تک سندھ کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور سودے بازی کی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بے شمار وسائل سے مالامال سندھ کے عوام آج کے جدید دور میں بھی پینے کے صاف پانی صحت و تعلیم اور امن جیسی بنیادی سہولت سے محروم، 78 لاکھ بچے اسکول سے باہر، پچاس فیصد گیس اور 30 فیصد گھرانے سندھ میں بجلی کی نعمت سے محروم ہیں، گیس کی کل پیداوار میں 72 فیصد سندھ دیتا ہے مگر سندھ میں چولہے ٹھنڈے اور اندھیروں کا راج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غربت و افلاس اور خوراک کی قلت کی وجہ سے بچے مررہے ہیں، لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کرپشن کی بے تاج بادشاہ ہے جس نے سندھ کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے اپنے نعرے برعکس عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھینا ہے، سندھ کے وسائل کی حفاظت کی بجائے لوٹ مار اور سودے بازی کی ہے، اس لیے تو لاڑکانہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کیس پر عدالت کو یہ ریمارکس دینے پڑے کہ ڈائن بھی سوگھر چھوڑ دیتی ہے، اس لیے نظام و قیادت کی تبدیلی سے ہی سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے جس کے لیے جماعت اسلامی بدل دو نظام کو سنوار دو سندھ کو مہم چلا رہی ہے، عوام حقیقی تبدیلی سندھ سے بدامنی ڈاکو راج کرپشن و بدامنی کے خاتمے اور عدل و انصاف کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا ساتھ دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ کے وسائل جماعت اسلامی پیپلز پارٹی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔