معروف ٹی وی اینکر اور کرائم رپورٹر اقرار الحسن نے باضابطہ طور پر سیاست میں قدم رکھ دیا، تاہم ان کی سیاسی انٹری خبروں کے بجائے سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا موضوع بن گئی۔

سرِعام جیسے مقبول پروگرام اور رمضان ٹرانسمیشن شانِ رمضان سے شہرت حاصل کرنے والے اقرار الحسن نے لاہور پریس کلب میں اپنی نئی سیاسی جماعت کے نام اور پرچم کی رونمائی کی۔ جماعت کا نام ’’عوام راج پارٹی‘‘ رکھا گیا ہے، جبکہ پارٹی پرچم میں سرخ پس منظر پر پیلے رنگ کا چاند اور ستارہ نمایاں ہے۔

جوں ہی پارٹی کے نام اور پرچم کی تصاویر سامنے آئیں، سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصروں اور طنزیہ جملوں کی بھرمار کر دی۔ کئی صارفین نے پرچم کے ڈیزائن کو مختلف ممالک اور سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کا امتزاج قرار دیا، جبکہ بعض نے جماعت کے نام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’’اقرار الحسن نے خود ثابت کر دیا کہ وہ ریڈ فلیگ ہیں۔‘‘

ایک اور صارف کا کہنا تھا ’’یہ تو سوویت یونین کے پرچم جیسا لگ رہا ہے۔‘‘

ایک مداح نے سخت جملہ کستے ہوئے لکھا ’’یہ سب ایک مذاق لگتا ہے، آخر کون ان کے ساتھ ہوگا، سوائے ان کی تین یا چار بیویوں کے۔‘‘

ایک اور تبصرے میں کہا گیا ’’عوام راج اس ملک میں کبھی نہیں آنے والا۔‘‘

کچھ صارفین نے جماعت کے نام کو بھارتی سیاسی جماعت سے مشابہ قرار دیا، جبکہ کسی نے پرچم کو ’’سرخ ڈیزائن والا ترک پرچم‘‘ قرار دے دیا۔

اقرارالحسن کی سیاست میں آمد جہاں ان کے مداحوں کےلیے حیران کن رہی، وہیں سوشل میڈیا پر یہ قدم فی الحال تفریح اور میمز کا موضوع بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اقرار الحسن سیاست میں بھی اتنی ہی سنجیدگی سے جگہ بنا پاتے ہیں یا نہیں، جتنی انہوں نے ٹی وی اسکرین پر بنائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اقرار الحسن سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے نام

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی