اقرار الحسن کی سیاسی جماعت کا نام اور پارٹی پرچم سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
معروف ٹی وی اینکر اور کرائم رپورٹر اقرار الحسن نے باضابطہ طور پر سیاست میں قدم رکھ دیا، تاہم ان کی سیاسی انٹری خبروں کے بجائے سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا موضوع بن گئی۔
سرِعام جیسے مقبول پروگرام اور رمضان ٹرانسمیشن شانِ رمضان سے شہرت حاصل کرنے والے اقرار الحسن نے لاہور پریس کلب میں اپنی نئی سیاسی جماعت کے نام اور پرچم کی رونمائی کی۔ جماعت کا نام ’’عوام راج پارٹی‘‘ رکھا گیا ہے، جبکہ پارٹی پرچم میں سرخ پس منظر پر پیلے رنگ کا چاند اور ستارہ نمایاں ہے۔
جوں ہی پارٹی کے نام اور پرچم کی تصاویر سامنے آئیں، سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصروں اور طنزیہ جملوں کی بھرمار کر دی۔ کئی صارفین نے پرچم کے ڈیزائن کو مختلف ممالک اور سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کا امتزاج قرار دیا، جبکہ بعض نے جماعت کے نام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’’اقرار الحسن نے خود ثابت کر دیا کہ وہ ریڈ فلیگ ہیں۔‘‘
ایک اور صارف کا کہنا تھا ’’یہ تو سوویت یونین کے پرچم جیسا لگ رہا ہے۔‘‘
ایک مداح نے سخت جملہ کستے ہوئے لکھا ’’یہ سب ایک مذاق لگتا ہے، آخر کون ان کے ساتھ ہوگا، سوائے ان کی تین یا چار بیویوں کے۔‘‘
ایک اور تبصرے میں کہا گیا ’’عوام راج اس ملک میں کبھی نہیں آنے والا۔‘‘
کچھ صارفین نے جماعت کے نام کو بھارتی سیاسی جماعت سے مشابہ قرار دیا، جبکہ کسی نے پرچم کو ’’سرخ ڈیزائن والا ترک پرچم‘‘ قرار دے دیا۔
اقرارالحسن کی سیاست میں آمد جہاں ان کے مداحوں کےلیے حیران کن رہی، وہیں سوشل میڈیا پر یہ قدم فی الحال تفریح اور میمز کا موضوع بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اقرار الحسن سیاست میں بھی اتنی ہی سنجیدگی سے جگہ بنا پاتے ہیں یا نہیں، جتنی انہوں نے ٹی وی اسکرین پر بنائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقرار الحسن سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے نام
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔