جنید صفدر کی مہندی کی تقریب، تصاویر جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی مہندی کی تقریب جاتی امرا میں ہوئی جہاں دولھا اور دلہن کے خاندانوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔
جنید صفدر نے مہندی کی تقریب میں گہرے نیوی بلیو رنگ کا روایتی کرتا زیب تن کیا، کرتے پر سنہری بٹن اور سادہ کٹ نے شاہانہ تاثر دیا اور لباس کے ساتھ سنہری، براؤن شال کو روایتی انداز میں کندھے پر ڈالا گیا۔
جنید صفدر کی شال کا ریشمی تاثر مہندی کی تقریب کے رنگوں سے ہم آہنگ نظر آیا، نیوی بلیو اور سنہری امتزاج نے کلاسک ویڈنگ پیلیٹ کو اجاگر کیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر اور شانزے علی روحیل کی مہندی کی تقریب جاتی عمرہ میں جاری ہیں، یامہندی کی تقریب میں شریف فیملی اور شیخ روحیل اصغر فیملی کے افراد و عزیز و اقارب شریک ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابقجنید صفدر کی مہندی کی تقریب میں معروف رقاص وہاب شاہ کو مدعو کیا گیا۔
جنید صفدر کی مہندی کی تقریب میں 350مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا، شریف فیملی کی جانب سے روایتی و دیسی پکوان بھی تیار کیے گئے، مہمانوں کی تواضع سوپ، چکن ڈمپورہ، دال گوشت، آلو گوشت، وائٹ رائس، باربی کیو، گاجر کا حلوہ اور دال کا حلوہ سمیت مختلف ڈشز سے کی گئی۔
جنید صفدر کی بارات آج 17 جنوری کو دوپہر ایک بجے لیک سٹی جائے گی، بارات میں شریف فیملی و عزیز و اقارب کو مدعو کیا گیا ہے اور بارات کے لیے 400 مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیاگیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے ولیمے کی تقریب 18 جنوری کو جاتی امرا فارمز میں منعقد ہوگی، ولیمہ کی تقریب میں 800 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔
جنید صفدر کی ولیمہ کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی و صوبائی وزرا اور اہم رہنماؤں سمیت غیرملکی مہمانوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مہندی کی تقریب میں کی مہندی کی تقریب مدعو کیا گیا جنید صفدر کی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔